***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f330: غیر مسلم کی دعوت میں شرکت۔ ۔ ۔ ؟ <Back
سوال
میں ایک بزنس مین ہوں غیر مسلم افراد سے میرے گہرے تجارتی روابط ہیں اسی لئے غیر مسلم مجھے اپنے فنکشنس میں مدعو کرتے ہیں، کیا میں ان کی دعوت میں شریک ہوسکتا ہوں؟
جواب
غیر مسلموں کی دعوت قبول کرنا شریعت مطہرہ میں جائز ہے‘ ان کے ذبیحہ کے سوا دیگر چیزیں کھائی جاسکتی ہیں‘ البتہ اہل کتاب کا ذبیحہ شرعاً حلال ہے جب کہ وہ غیر اللہ کے نام پر ذبح نہ کرتے ہوں‘ مسند احمد میں حدیث پاک ہے: عن أنس أن یہودیا دعی النبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی خبز شعیر وإہالۃ سنخۃ فأجابہ. ترجمہ: ایک یہودی نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور چربی کے سالن پر مدعو کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔ (مسند احمد‘ حدیث نمبر13545) اللہ تعالی کاارشاد ہے:وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم و طعامکم حل لہم۔ اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ (المائدۃ ۔5) جس جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوخواہ مسلم ہو کہ اہل کتاب‘ اس کا کھانا کسی حال میں بھی حلال نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com