***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f340: حلال آمدنی کے ذرائع <Back
سوال

السلام علیکم مفتی صاحب! ارشاد فرمائے‘ کمائی کے حلال ذرائع کونسے ہیں؟ جزاک اللہ۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ! شریعت مطہرہ میں ذرائع آمدنی کے سلسلہ میں ان طریقوں کو حرام قرار دیا گیا جن میں دولت منجمد ہوجاتی ہو یا کسی پر ظلم ہو یا یقینی طور پر ضرر لاحق ہو‘دھوکہ دہی ہو‘ گناہ کے اعمال میں تعاون ہو‘ نزاع و جھگڑے کا اندیشہ ہو‘ ان ہی اصول و ضوابط کی بناء پر سود کو حرام قرار دیا گیا‘ ان ہی ضوابط کی وجہ سے بیعانہ سوخت کرنے کی ممانعت ہے۔ اس کے علاوہ باقی طریقے اپنے مقررہ شرائط کیساتھ جائز و مباح ہیں‘ جسے تجارت‘ ملازمت‘ کسی چیز کو کرایہ پر دینا‘ شراکت داری‘ کاریگری‘ مضاربت یعنی ایک شخص کی محنت اور دوسرے کی سرمایہ کاری۔ اسی طرح حلال چیزوں کی خرید و فروخت جائز ہے اور ان کو کرایہ پر بھی دیا جاسکتا ہے۔ حرام چیزوں کی خرید و فروخت و اجارہ حرام ہے اور مکروہ چیزوں کی خرید و فروخت و اجارہ مکروہ ہے۔ نیز یہ حلال طریقے کوئی ممنوع امر درپیش ہونے کی وجہ سے ممنوع قرار پاتے ہیں جیسے اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری اور شیئرز کی خرید و فروخت فی نفسہ جائز ہے‘کمپنی حرام کاروبار کرتی ہو تو جائز نہیں‘ ویب سائٹس Website کی ڈیزائننگ فی نفسہ جائز ہے‘ فحش تصاویر یا فحش لٹریچر والی ویب سائٹ ڈیزائن کرنا شرعاً جائز نہیں‘ اور کئی ایک مثالیں ملتی ہیں۔ حلال ذرائع آمدنی کے اصول کے متعلق یہ مختصر سی گفتگو ہے۔ اس کی تفصیلات کے تحت اسلامی معاشیات و اقتصادیات کا مکمل بیان موجود ہے‘ کسی خاص صورت کے بارے میں دریافت کیا جائے تو ان شاء اللہ تعالیٰ جواب دیا جائے گا۔ الاشباہ والنظائر الکتاب الاول میں ہے: الاصل فی الاشیاء الاباحۃ حتی یدل الدلیل علی التحریم۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com