***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f349: سحر اور فجر کے درمیان وقفہ رکھنے کا ثبوت <Back
سوال

السلام علیکم! برائے مہربانی ‘ سحر اور نماز فجر کے درمیان وقفہ رکھنے کے بارے میں حدیث شریف بتلائے؟

جواب

سحر کے وقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرنی چاہئے‘ اللہ تعالیٰ نے پرہیزگار بندوں کی صفات میں بیان فرمایا: وَبِالْأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔ ترجمہ: اور وہ سحر کے وقت بخشش طلب کرتے ہیں۔ (سورۃ الذاریات‘ 18) نیز سحر اور نماز فجر کے درمیان وقت کی مقدار کے سلسلہ میں جامع ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ قُمْنَا إِلَی الصَّلاَۃِ. قَالَ قُلْتُ کَمْ کَانَ قَدْرُ ذَلِکَ قَالَ قَدْرُ خَمْسِینَ آیَۃً. ۔ ترجمہ: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ‘ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہم نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ سحری تناول کی‘ پھر نماز کے لئے اٹھے‘ میں نے کہا: درمیان میں کتنا فاصلہ رہا؟ اُنہوں نے فرمایا پچاس آیتوں کی تلاوت کے برابر فاصلہ رہا۔ (سنن ترمذی شریف‘ ابواب الصوم‘ باب ما جاء فی التاخیر السحور‘ حدیث نمبر: 707) اس لئے فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ سحری کھانے میں اس قدر تاخیر کرنا کہ فجر کا وقت شروع ہونے کا اندیشہ ہوجائے مکروہ ہے۔ فی زمانہ کیلنڈروں اور نظام الاوقات میں علماء کرام کی تحقیق کے مطابق انتہاء سحر کا جو وقت لکھا جاتا ہے‘ اس کے لحاظ سے سحری کھانے سے فارغ ہوجانا چاہئے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com