***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f352: جادو توڑنے کا عمل <Back
سوال

میں نے کسی عالم کے بارے میں سنا ہے کہ وہ لیموں‘ ناریل اور کالی مرغی وغیرہ سے کچھ عمل کرکے کالے جادو کا اثر توڑتے ہیں اور عربی میں کچھ پڑھتے ہیں‘ کیا اس طرح کرنے کی اجازت ہے؟

جواب

قرآن شریف کل کائنات کے لئے ہدایت بھی ہے اور شفا بھی۔ قرآن شریف کی آیات یا دعاؤں وغیرہ کے ساتھ جادو کے اثر کو باطل کرنے کے لئے حلال جانور و جائز اشیاء کا استعمال کرنا جائز ہے اور انہیں فقراء و غرباء میں تقسیم کرنا قابل ستائش عمل ہے‘ البتہ کسی پرندہ اور حیوان کو ذبح کے سوا کسی اور طریقے سے مارنا درست نہیں جیسے زندہ دفن کرنا یا گردن ماردینا۔ یہ عمل بے زبانوں پر ظلم و سفاکی ہے‘ شریعت نے اس کو ہرگز پسند نہیں فرمایا‘ کسی جان دار و ذی روح کو زمین میں دھنسا کر یا باندھ کر نشان لگانے یا تیر مارنے سے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا کیونکہ یہ عمل ذی روح کے لئے زیادہ تکلیف کا باعث ہے‘ زندہ دفن کرنے اور گردن مارنے میں بھی یہی علت ہے۔ مسند امام احمد میں ہے: عن ابن عباس مر النبی صلی اللہ علیہ وسلم برھط من الانصار و قد نصبوا حمامۃ یرمونھا فقال لا تتخذوا شيئا فیہ الروح غرضا۔ ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم انصار کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے جبکہ وہ ایک کبوتر کو باندھے ہوئے تھے تاکہ اُسے نشانہ بنائیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی جاندار کو باندھ کر نشانہ مت بناؤ۔ (مسند احمد‘ بدایۃ مسند عبداللہ بن عباس‘ حدیث: 2571۔ معجم کبیر طبرانی‘ حدیث: 12097) اور ابطال سحر کے لئے ذی روح کی تصویر یا پتلا بنانا بھی ناجائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com