***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f363: کیا اٰمین بالجھرکہنے سے نمازفاسدہوجاتی ہے؟ <Back
سوال
کیااٰمین بالجھرکرنے سے نمازفاسدہوجاتی ہے ؟
جواب
فقہ حنفی کے مطابق اٰمین آہستہ کہنا سنت ہے ،جیساکہ جامع ترمذی شریف ج1ص58میں حدیث پاک ہے : عن علقمۃ بن وائل عن ابیه ان النبی صلی اللہ علیه وسلم قرأغیرالمغضوب علیھم ولاالضالین فقال اٰمین وخفض بھاصوته ۔ ترجمہ:حضرت علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرالمغضوب علیھم ولاالضالین پڑھا اورآپ نے اٰمین فرمایا اورپست آوازسے فرمایا۔(جامع ترمذی شریف ج1ص58،حدیث نمبر:231) اس روایت کوامام حاکم نے مستدرک علی الصحیحین میں ذکرکرکے فرمایا: ھذاحدیث صحیح علی شرط الشیخین یہ حدیث امام بخاری اورامام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے ۔(مستدرک علی الصحیحین،کتاب التفسیر،حدیث نمبر:2866) اس کے علاوہ اوراحادیث شریفہ کتب حدیث میں موجودہیں جن سے آمین آہستہ کہنامعلوم ہوتاہے ،ان احادیث شریفہ کے پیش نظرفقہاء احناف نے آہستہ اٰمین کہنے کوسنت کہاہے ،اگرآوازسے اٰمین کہا جائے تومکروہ ہے ،لیکن اس کی وجہ سے نمازفاسدنہیں ہوتی۔ فتاوی عالمگیری ج1ص72میں ہے : (سننھا)رفع الیدین ۔ ۔ ۔ والتسمیۃ والتامین سرا۔ نیزفتاوی عالمگیری ج1ص107میں ہے : ویکرہ الجھربالتسمیۃ والتامین۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے مطابق آوازسے اٰمین کہنا مندوب ہے ،شوافع کے پاس اپنے مسلک کے دلائل موجودہیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com