***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f435: کیا پچھنا لگانے والے کی کمائی حلال ہے <Back
سوال
السلام علیکم حضور! حدیث شریف میں ہے کہ احرام کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا‘ لیکن یہ حدیث شریف ملاحظہ ہو ’’حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کتے کی قیمت لینا ناجائز‘ زنا کی خرچی حرام اور پچھنا لگانے والے کی کمائی ناجائز ہے۔ (صحیح مسلم‘ باب تحریم ثمن الکلب)‘‘ اس میں اس کی کمائی ناجائز فرمائی گئی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ جزاک اللہ۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! پچھنا لگانے کا پیشہ اختیار کرنا ازروئے شریعت جائز ہے۔ اس کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی حلال و مباح ہے‘ اس کی دلیل صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود وہ حدیث پاک ہے جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال احتجم النبی صلی اللہ علیہ و سلم وأعطی الحجام أجرہ ولو علم کراہیۃ لم یعطہ۔ ترجمہ: حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے صاحب کو اجرت عطا فرمائی‘ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‘ اس اجرت کو ناپسند جانتے تو پچھنا لگانے والے صاحب کو اجرت عطا نہ فرماتے۔ (صحیح بخاری شریف ‘ کتاب الإجارۃ،باب خراج الحجام، حدیث نمبر: 2159‘ صحیح مسلم شریف، کتاب المساقاۃ، باب حل أجرۃ الحجامۃ، حدیث نمبر: 4124 ) اس حدیث پاک کی بنیاد پر جمہور فقہاء نے پچھنا لگانے والے شخص کی کمائی کو جائز کہا ہے۔ مذکورہ بالا حدیث پاک کی وجہ سے فقہاء احناف نے سوال میں ذکر کردہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کو منسوخ قرار دیا ہے‘ البتہ پچھنا لگانے والے کی کمائی کو ازروئے طبیعت ناپسندیدہ کہا ہے‘ کیونکہ اس پیشہ میں گندگی و آلائش ہوتی ہے جیسا کہ صاحب تبیین الحقائق ‘ علامہ فخر الدین عثمان بن علی زیلعی (متوفی 347؁ھ ) نے صراحت کی ہے: جاز أخذ أجر الحجامۃ ۔ ۔ ۔ قلنا ہذا الحدیث منسوخ بما روی ۔ ۔ ۔ فیحمل حدیث الخبث علی الکراہۃ طبعا من حیث المروء ۃ لما فیہ من الخبث والدناء ۃ (تبیین الحقائق، کتاب الإجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com