***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f436: تہجد میں قرآن کریم کی تلاوت <Back
سوال
حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم‘ میں نے سنا ہے کہ حافظ قرآن اگر تہجد میں قرآن نہیں پڑھتا ہے تو وہ قرآن کا حق ادا نہیں کیا‘ کیا یہ صحیح ہے؟ اور اگر صحیح ہے تو تہجد میں روزانہ کتنا قرآن پڑھنا چاہئے اور اس کی فضیلت کیا ہے؟ بہت بہت شکریہ
جواب
اللہ تعالیٰ نے جنہیں دولت حفظ قرآن کریم سے سرفراز کیا ہے بطور خاص انہیں کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہئے‘ نیز تلاوت قرآن کریم بیرون نماز کرنے سے اندرون نماز کرنا نسبتاً بہتر ہے‘ چنانچہ جامع ترمذی شریف میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادمبارک ہے: فاوتروایااہل القران ۔ ترجمہ:اے حفاظ قران مجید! وتراداکرو۔ اس حدیث پاک میں وترسے مراد نماز تہجد ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ،ابواب الصلوۃ ،باب ماجاء ان الوترلیس بحتم ،حدیث نمبر:455) نیز تہجد میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا صالحین و بزرگان دین کا معمول رہا ہے‘ حافظ قرآن کے لئے زیادہ مناسب اور بہتر ہے کہ وہ تہجد میں قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کرے‘ اُسے تہجد پڑھنے کا ثواب اور تلاوت کا اجر بھی حاصل ہوگا اور حفظ قرآن میں پائیداری و پختگی آئے گی۔ جہاں تک تلاوت قرآن مجید کا حق اداکرنے کی بات ہے ،ویسے تو اس کا حق ادانہیں کیا جاسکتا تاہم اگرکوئی حافظ قرآن تہجد میں تلاوت نہیں کرتا،لیکن تراویح ودیگرنوافل میں تلاوت کیا کرتاہے اورحفظ قرآن میں پختگی باقی رہتی ہے تو اسے تلاوت کا حق ادانہ کرنے والانہیں کہا جائے گا۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com