***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f439: بسم اللہ خوانی <Back
سوال

السلام علیکم! چار سال چار مہینے اور چار دن کا ہوجانے پر بچہ کی بسم اللہ خوانی کی جاتی ہے‘ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! بچہ جب بولنا شروع کرے اس وقت اللہ تعالی کا نا م کہلوائیں ،جیساکہ امام بیہقی (متوفی 458؁ھ)کی شعب الایمان میں حدیث پاک ہے : عن ابن عباس ، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، قال: افتحوا علی صبیانکم أول کلمۃ بلا إلہ إلا اللہ۔ ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اپنے بچوں کو سب سے پہلے کلمہ طیبہ لا إلہ إلا اللہ سکھاؤ۔(شعب الایمان للبیہقی ،الستون من شعب الإیمان وہو باب فی حقوق الأولاد والأھلین،حدیث نمبر:8379) تسمیہ خوانی کا اہتمام تقریبا تمام مسلم گھرانوں میں کیا جاتاہے ،تسمیہ خوانی کے نام سے الحمدشریف اور سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں کسی بزرگ کے ذریعہ پڑھائی جاتی ہیں تاکہ بچہ تعلیمی میدان میں ترقی کی طرف گامزن رہے ۔ بچے کی سن شعور کیلحاظسے حسب سہولت ’’بسم اللہ خوانی‘‘ کی جاسکتی ہے۔بچے کی عمر چار سال چار مہینے چار دن ہونے پر’’بسم اللہ خوانی‘‘ کرنا،جائز امرہے ،دن کا تعین کرکے تسمیہ خوانی کا اہتمام ممنوع نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com