***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****
 
f9: کمپیوٹر اسکرین پرقرآنی آیات بے وضوچھونے کا شرعی حکم <Back
سوال
انٹرنیٹ پر بہت سے دینی معلوماتی سائٹس دستیاب ہیں ،جن سے میں کافی استفادہ کرتاہوں مطالعہ کے دوران اسکرین پر قرآن کریم کی آیتیں بھی ہوتی ہیں ،کیا اس وقت اسکرین کو بلاوضوہاتھ لگا یا جاسکتا ہے ؟
جواب
قرآن کریم اللہ تعالی کامقدس کلام ہے جس کو بے طہارت وبلاوضو چھونا حرام ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے: لايمسه الاالمطهرون۔ ترجمہ:اس کو پاک وطاہر لوگ ہی ہاتھ لگائیں(سورۃ الواقعۃ۔79 ) قرآن کریم کی عظمت وحرمت کے طور پر اس کو جس طرح بے وضوہاتھ لگانا منع ہے اسی طرح قرآن کریم کے اسکرین پر جو تحریر نظرآتی ہے وہ دراصل الکٹرانک شعاعیں ہیں اور ان شعاعوں کی حیثیت عکس کی ہے لہذا کمپیوٹر کے اسکرین پر جس وقت آیات قرآنیہ ہوں اس وقت بغیر وضو اسکرین کو چھونا جائز نہیں البتہ اگر اسکرین پرزائد آئینہ نصب کیا جائے جس کو علیحدہ کیا جاسکتا ہو تواس آئینہ کو بلاوضوچھونے میں کوئی مضائقہ نہیں فتاوی عالمگیری ج1، ص 38/39، کتاب الطھارۃ الباب السادس ، الفصل الرابع فی أحکام الحیض میں ہے: لايجوز لهماوللجنب والمحدث مس المصحف الابغلاف متجاف عنه۔ اس کے برخلاف آیات قرآنیہ کو مخفی کرکے دوسری چیزیں اسکرین پر نمایاں کی جائیں تو اسکرین کو چھونے میں حرج نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com