***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > مدینۂ طیبہ اور مسجد نبوی

Share |
سرخی : f 1020    حرمین شریفین کے آداب سے متعلق ایک ضروری ہدایت
مقام : بلال نگر،حیدرآباد,
نام : محمدخلیل
سوال:     حج وعمرہ کے وقت دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ مسجد نبوی شریف سے نکلتے وقت اپنی چپل وغیرہ اس طرح ز مین پر ڈالتے ہیں کہ اس کی وجہ سے کافی آوازہوتی ہے، کیا یہ طریقہ درست ہے ؟ کسی بھی مسجد میں چپل وغیرہ پٹخناخاص طور پر مسجد نبوی میں اس طرح کا عمل کرنا کیساہے؟ اس کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں تو موجب تشکر ہوگا؟
............................................................................
جواب:     : کسی بھی کام کو اطمینان وآہستگی اور وقاروشائستگی کے ساتھ کرنا چاہئے،عجلت وبے وقاری طبیعت سلیمہ کے لئے پسند یدہ نہیں ،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام امور کو اطمینان و وقار کے ساتھ انجام دیتے ‘چنانچہ صحیح مسلم شریف میں طویل روایت کا ایک جزملاحظہ ہو:فاخذردائہ رویدا وانتعل روید ا وفتح الباب رویدا فخرج ثم اجافہ رویدا ۔ ۔ ۔ ترجمہ:ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے اپنی چادر مبارک لی ،اطمینان سے نعلین مبارک پہنی ،آہستہ دروازہ کھول کر باہر تشریف لے گئے پھر آہستہ سے دروازہ بندکیا۔(صحیح مسلم شریف ،کتاب الجنائز فصل فی التسلیم علی اہل القبور والدعاء والاستغفار لہم،حدیث نمبر:974)
کسی بھی موقع پر چپل وغیرہ پٹخنا یا زمین پر اس طرح زور سے رکھنا کہ جس سے آواز آئے ‘ناپسندیدہ ہے اور مساجدسے نکلتے وقت یہ عمل حد درجہ ناپسندیدہ ہے ،مسجد میں داخل ہوتے وقت، نکلتے وقت اور اندرون مسجد اس کے آداب کو ملحوظ رکھاجائے ایسی کوئی آوازنہ کی جائے جس سے نمازیوں او رذکر وتلاوت کرنے والوں کو خلل ہو ،لہذا چپل وغیرہ رکھتے وقت آہستگی ووقار کو پیش نظررکھنا چاہئے،یہ عام مساجد کے احکام ہیں اور بالخصوص مسجد نبوی شریف علی صاحبہ الصلوۃ والسلام اور مسجد حرام شریف کے آداب تو دیگر مساجد کے بالمقابل زائد ہیں ‘اس لئے حجاج کرام وزائرین حضرات کو چپل پہنتے اور رکھتے وقت ان مقامات مقدسہ کی قربت کا لحاظ کرتے ہوئے اس طرح کی غفلت ولاپرواہی سے مکمل طور پر احتیاط برتنی چاہئے کہ کہیں یہ عمل سوئے ادبی قرار پاکر دنیا وآخرت میںخسارہ کا باعث نہ بن جائے۔
اس لئے کہ یہ وہ مقدس مسجد شریف ہے جہاں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا روضۂ اطہر ہے،پیکرادب ہوکر حاضر ہونا چاہئے ، یہ وہ بارگاہ عالی جاہ ہے جہاں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا اور آوازبلند کرنے کا حکم یہ ہے کہ تمام اعمال وعبادتیں ضائع وبرباد ہوجاتی ہیں اور آدمی کو اس کا شعور واحساس بھی نہیں رہتا جیسا کہ بارگاہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے آداب کی تعلیم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :یاایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولاتجہروالہ بالقول کجہربعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون ترجمہ : اے ایمان والوا! تم اپنی آوازوں کو نبی (اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آواز پر بلند مت کرو اور آپ کی خدمت میں اس طرح گفتگو مت کرو جس طرح تم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہو‘ ورنہ تمہارے اعمال ضائع واکارت ہوجائیں گے اور تمہیں اس کی خبر نہ ہوگی۔ (سورۃ الحجرات ۔2)
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com