***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان

Share |
سرخی : f 1021    حج کس پر فرض ہے ؟
مقام : واراناسی,
نام : علیم الدین
سوال:     مفتی صاحب !حج کے بارے میں یہ سننے میں آتاہے کہ صاحب استطاعت پر حج فرض ہے ، لیکن صاحب استطاعت کس کو کہتے ہیں ؟ کیا زکوٰۃ دینے والے کو صاحب استطاعت کہتے ہیں ؟پھر اس کا کیا مطلب ہے ؟
بعض لوگوں کے پاس جائیدادیں بڑی ہوتی ہیں ، وہ اس کی تجارت نہیں کرتے، کیا ایسے لوگوں پر حج فرض ہوگا یا نہیں ؟ اگر کسی کے پاس رقم نہ ہواور جائیداد ہوتو کیا اس پرحج فرض ہوگا؟ جواب دیں تو مہربانی ہوگی ۔
............................................................................
جواب:     حج کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا۔ترجمہ : اور اللہ کے لئے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے ، اُن پر جواس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔ (سورۂ اٰل عمران ۔ 97)
جامع ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا یُوجِبُ الْحَجَّ قَالَ الزَّادُ وَالرَّاحِلَۃُ۔
ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ایک صاحب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حج کو کیا چیز واجب کرتی ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: توشۂ سفر اور سواری ۔ (جامع ترمذی ‘ کتاب الحج‘ باب ما جاء فی إیجاب الحج بالزاد والراحلۃ‘ حدیث نمبر818)
فقہاء کرام نے اس کی یوں وضاحت کی ہے کہ جس شخص کے پاس بنیادی ضرورت سے زائد اس قدر مال ہوکہ وہ بیت اللہ شریف تک آنے جانے اور قیام کرنے کے اخراجات برداشت کرسکتاہو اور سفرحج سے واپس آنے تک اہل وعیال کے نفقہ کا انتظام کرسکتاہوتووہ صاحب استطاعت ہے اور اس پر حج فرض ہے ۔
زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے دیگر شرائط کے ساتھ نصاب کا مالک ہونا‘مال کابڑھنے والاہونااور نصاب پرسال گزرنا‘شرط ہے ،حج واجب ہونے کے لئے مال کے بڑھنے یا اس پر سال گزرنے کی شرط نہیں اور نہ نصاب کی تکمیل لازمی ہے، محض بنیادی ضرورت اور اہل وعیال کے نفقہ سے زائد اتنی رقم ہو کہ بیت اللہ شریف جانے آنے کے اخراجات برداشت کرسکتاہوتو حج فرض ہوجاتاہے۔
رہائشی گھرکے علاوہ جائیداد ہو اور اس کو فروخت کرنے سے اتنی رقم حاصل ہوتی ہے کہ وہ واپسی تک اہل وعیال کے نفقہ کا بندوبست کرکے حج کے مکمل اخراجات برداشت کرسکتاہو توایسے شخص پرحج فرض ہے۔
فتاوی عالمگیری ، کتاب المناسک میں ہے : وتفسیر ملک الزاد والراحلۃ أن یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ ، وہو ما سوی مسکنہ ولبسہ وخدمہ ، وأثاث بیتہ قدر ما یبلغہ إلی مکۃ ذاہبا وجائیا راکبا لا ماشیا وسوی ما یقضی بہ دیونہ ویمسک لنفقۃ عیالہ ، ومرمۃ مسکنہ ونحوہ إلی وقت انصرافہ۔ ۔ ۔ وفی التجرید إن کان لہ دار لا یسکنہا وعبد لا یستخدمہ فعلیہ أن یبیعہ ویحج بہ ۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com