***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > روضۂ اطہر کی حاضری اور ا

Share |
سرخی : f 1023    زیارت مقدسہ کے لئے سفر کا حکم
مقام : کرنول،انڈیا,
نام : سید عمر
سوال:    

میں نے سنا ہے کہ مدینہ شریف کو مسجد نبوی جانے کی نیت سے جایا کریں نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضہ کی زیارت کی نیت سے، کیا یہ صحیح ہے؟ اس کے بارے میں قرآن وحدیث میں ہمیں کیا ہدایات ملتی ہیں ؟ بتلائے، ان دنوں یہ سوال اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ آندھرا پردیش سے جانے والے حجاج پہلے مدینہ شریف جارہے ہیں، لہذا تشفی بخش جواب مرحمت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار گہربار میں حاضری سنت مؤکدہ اور تقرب الٰہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ قرآن کریم و حدیث شریف میں اس کی تاکید فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَہُمْ جَاء ُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّہَ تَوَّابًا رَحِیمًا۔ ترجمہ: اور جب لوگ اپنے اوپر ظلم کریں توآپ کے دربار میں حاضر ہوں اور اللہ سے مغفرت چاہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سفارش فرمائیں تو ضرور بضرور اللہ کو خوب توبہ قبول کرنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا پائیں گے۔(سورۃالنساء۔64) احادیث شریفہ میں بھی دربار اقدس کی حاضری سے متعلق بہت تاکید فرمائی گئی ہے اور اس پر شفاعت کی بشارت دی گئی ہے، جیساکہ سبل الہدی والرشادمیں حدیث شریف ہے: من زار قبری وجبت لہ شفاعتی۔ ترجمہ: جس نے میرے روضہ اقدس کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی ۔ (سنن الدارقطنی‘ کتاب الحج‘ حدیث نمبر2727۔ شعب الإیمان للبیھقی، الخامس و العشرین من شعب الإیمان و ہو باب فی المناسک ، فضل الحج و العمرۃ‘ حدیث نمبر4159۔ جامع الأحادیث، حرف المیم، حدیث نمبر22304۔ جمع الجوامع، حرف المیم، حدیث نمبر5035۔ مجمع الزوائد ،ج 4،ص 6،حدیث نمبر5841۔ کنز العمال ، زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم،حدیث نمبر42583۔ سبل الھدی والرشاد‘ ج12‘ ص376) اور شعب الایمان للبیھقی میں حدیث پاک ہے : من زارنی متعمدا کان فی جواری یوم القیامۃ۔ ترجمہ: جس نے قصدوارادہ کے ساتھ میری زیارت کی وہ قیامت کے دن میرے دامن رحمت میں ہوگا ۔(شعب الإیمان للبیھقی3994۔ السنن الصغری للبیھقی1818۔ جامع الأحادیث 22308۔ الجامع الکبیر للسیوطی5039۔کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال12373۔مشکوۃ شریف‘ ج1‘ ص 240) معجم کبیر طبرانی میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا رشاد ہے: من حج فزار قبری بعد موتی کان کمن زارنی فی حیاتی۔ ترجمہ: جس نے حج کیا اور میرے روضہ اقدس کی زیارت کی وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے میری ظاہری زندگی میں میری زیارت کی ۔ (المعجم الکبیرللطبرانی ،حدیث نمبر411۔ شعب الایمان للبیھقی، حدیث نمبر3996۔ سنن البیھقی، حدیث نمبر10573۔ مشکوۃ شریف‘ ج1‘ص240) اورمسند امام احمد، مستدرک علی الصحیحین، مجمع الزوائد اور سبل الہدی و الرشاد وغیرہ میں موجود ہے: عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی صَالِحٍ قَالَ أَقْبَلَ مَرْوَانُ یَوْماً فَوَجَدَ رَجُلاً وَاضِعاً وَجْہَہُ عَلَی الْقَبْرِ فَقَالَ أَتَدْرِی مَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ فَإِذَا ہُوَ أَبُو أَیُّوبَ فَقَالَ نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم- وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم- یَقُولُ لاَ تَبْکُوا عَلَی الدِّینِ إِذَا وَلِیَہُ أَہْلُہُ وَلَکِنِ ابْکُوا عَلَیْہِ إِذَا وَلِیَہُ غَیْرُ أَہْلِہِ. ترجمہ: سیدنا داود بن ابو صالح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا کہ ایک دن مروان نے دیکھا کہ ایک صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضۂ اطہر پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے ہیں، مروان کہنے لگا: تم کیا کررہے ہو؟ جب آگے بڑھا تو دیکھا کہ وہ صاحب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ ہیں، آپ نے فرمایا: ہاں! میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں۔ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم دین پر مت روؤ، جب اس کا اہل اس کاحکمراں ہو البتہ اس وقت دین پر روؤ جب کوئی غیر اہل اس کا حکمراں ہو۔ (مسند امام احمد، حدیث ابی ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر24302۔ مستدرک علی الصحیحین ، کتاب الفتن والملاحم ، حدیث نمبر8717۔ مجمع الزوائد، باب وضع الوجہ علی قبر سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر5845۔ سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب زیارتہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ج12،ص398) صحیح بخاری وغیرہ میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد، مسجد الحرام و مسجد الاقصی و مسجدی ہذا۔ ترجمہ: سفر نہ کیا جائے، مگر تین مساجد کی طرف، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری یہ مسجد۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب الصوم یوم النحر، حدیث نمبر1893) اس حدیث پاک کا یہ مفہوم نہیں کہ مذکورہ تین مساجد کے علاوہ کسی مقام کا سفر کرنا‘ ناجائز ہے، بلکہ اس کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ زیادہ ثواب کی نیت سے مذکورہ تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کے لئے سفر جائز نہیں ، کیونکہ ان مساجد کے علاوہ باقی مساجد کا ثواب سفر کی صورت میں برابر ہے اور مقامی مساجد کے درمیان فضیلت میں درجہ بندی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ مجمع الزوائد میں مسند احمد کے حوالہ سے حدیث پاک ہے: و عن شہر قال سمعت ابا سعید الخدری وذکر عندہ صلاۃ فی الطور فقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا ینبغی للمطی ان تشد رحالہ الی مسجد یبتغی فیہ الصلوۃ غیر المسجد الحرام و المسجد الاقصی ومسجدی ہذا۔ ترجمہ: حضرت شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، جب کہ آپ کے پاس کوہِ طور پر نماز پڑھنے کا ذکر کیا گیا، آپ نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری اس مسجد کے علاوہ کسی مسجد کی طرف نماز پڑھنے کے ارادہ سے سفر نہ کیا جائے۔ شارح صحیح بخاری، صاحب فتح الباری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث پاک کا ’’زیارت مقدسہ کے ارادہ سے سفر کرنا جائز نہیں‘‘ مراد لینے کو غلط قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: لا سبیل إلی الأول لإفضائہ إلی سد باب السفر للتجارۃ وصلۃ الرحم وطلب العلم وغیرہا فتعین الثانی ، والأولی أن یقدر ما ہو أکثر مناسبۃ وہو لا تشد الرحال إلی مسجد للصلاۃ فیہ إلا إلی الثلاثۃ ، فیبطل بذلک قول من منع شد الرحال إلی زیارۃ القبر الشریف وغیرہ من قبور الصالحین واللہ أعلم۔ ترجمہ: حدیث پاک سے زیارت مقدسہ ناجائز ہونے کا معنی لینا درست نہیں کیونکہ ایسی صورت میں تجارت، صلہ رحمی، طلب علم اور دوسرے اغراض کے لئے سفر کرنا‘ جائز نہ ہوگا، بہتر معنی یہی ہیں کہ کسی مسجد کا سفر اس میں نماز ادا کرنے کی نیت سے کرنا‘ جائز نہیں سوائے تین مساجد کے، اس سے ان لوگوں کا کہنا غلط قرار پاتا ہے جو روضۂ اطہر کی زیارت مقدسہ اور صالحین کے مزارات کی زیارت کو ممنوع کہتے ہیں۔ شارحین حدیث اور ائمہ امت نے صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث پاک کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا کہ زیارت مقدسہ کے ارادہ سے سفر کرنا‘ جائز نہیں بلکہ زیارت مقدسہ کی ترغیب والی احادیث شریفہ کی وجہ اسے بلا اختلاف محبوب و پسندیدہ قرار دیا۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے : فانہا من افضل الاعمال و اجل القربات الموصلۃ الی ذی الجلال وان مشروعیتہا محل اجماع بلا نزاع واللہ الہادی الی الصواب۔ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضۂ اطہر کی زیارت مقدسہ نہایت فضیلت والا عمل اورقرب الٰہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ زیارت مقدسہ بالاتفاق جائز ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (فتح الباری، کتاب الجمعۃ، باب فضل الصلوۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com