***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان

Share |
سرخی : f 1024    مزدلفہ پہنچنے سے پہلے عشاء کاوقت فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو!
مقام : ہمایو نگر،حیدرآباد،انڈیا,
نام : شمیم انور
سوال:     دنیا کے کئی ایک ممالک سے مسلمان حج بیت اللہ شریف کے لئے جاتے ہیں اور ہر سال حجاج کرام کی تعدا د میں اضافہ ہورہاہے ،حرمین شریفین میں حج کے موقع پر حجاج کرام کی آمدورفت کیلئے خصوصی انتظامات ہوتے ہیں ،چونکہ ازدحام بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے خصوصی انتظامات کے باوجود تمام حاجی حضرات نماز عشاء کے وقت تک عرفات سے مزدلفہ نہیں پہنچ سکتے، بسااوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈرائیورس نے خوب گھماکرحجاج کو مزدلفہ سے کافی دور چھوڑدیا، اس کے بعدحجاج چلتے رہے چلتے رہے یہاں تک کہ بہت زیادہ تاخیر ہو گئی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو حاجی حضرات ایسی مجبوری کی وجہ سے مزدلفہ نہ پہنچ سکیں اور مزدلفہ پہنچنے میں رات گزرجانے اور عشاء کا وقت چھوٹ جانے کااندیشہ ہو تو انہیں نماز کے سلسلہ میں کیا کرنا چاہئیے؟
............................................................................
جواب:     نویں ذی الحجہ وقوف عرفہ کے بعد نماز مغرب کا وقت حجاج کے حق میں سورج غروب ہونے کے بعد شروع نہیں ہوتابلکہ مزدلفہ میں نماز عشاء کا وقت داخل ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے ،چنانچہ حکم شریعت یہ ہے کہ حجاج کرام مزدلفہ پہنچ کر عشاء کا وقت شروع ہونے کے بعد مغرب وعشاء ایک اذان ،ایک اقامت کے ساتھ اداکی نیت سے پڑھیں،تاہم ازدحام یا دیگر کسی عذر کی بناء اگر یہ اندیشہ ہو کہ مزدلفہ پہنچنے تک عشاء کا وقت فوت ہوجائیگا اور صبح صادق نمودار ہوجائیگی توراستہ میں یا جہاں کہیں ہوں مغرب وعشاء اداکرلیں، فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ جب مغرب وعشاء کو جمع کرنے کا وقت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو نماز اصل وقت میں اداکرنی ضروری ہے۔
   جیسا کہ مناسک ملاعلی قاری مع حاشیۂ ارشاد الساری باب احکام المزدلفۃ ص238 میں ہے :(ولایصلی )ای احداہما (خارج المزدلفۃ )ای مطلقا (الااذا خاف طلوع الفجر فیصلی )ای فیہ کما فی نسخہ (حیث ہو) ای لضرورۃ ادراک وقت اصل الصلوۃ وفوت وقت الواجب للجمع ولوکان فی الطریق اوبعرفات اومنی ونحوھا۔
اگر عشاء کا وقت ختم ہونے سے پہلے مزدلفہ پہنچ جائیں تو انہیں مغرب وعشاء دہرانا ضروری ہے۔
جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج1، کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ اداء الحج،ص 230پر ہے: ولو صلی المغرب بعد غروب الشمس قبل ان یاتی المزدلفۃ فعلیہ ان یعیدہا اذا اتی بمزدلفۃ فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ تعالی وکذلک لو صلی العشاء فی الطریق بعد دخول وقتہا۔
بہر طور انہیں جلد ازجلد وقوف واجب کے لئے مزدلفہ پہنچنا ضروری ہے،وقوف مزدلفہ صبح صادق سے طلوع آفتاب سے پہلے تک ایک لمحہ کے لئے ہی کیوں نہ ہو واجب ہے جس کے چھوٹنے پر دم دینا لازم ہے،جو حاجی حضرات وقوف عرفہ کے بعد ٹریفک کی مجبوری کی وجہ یاراہ بھٹکنے کے باعث طلوع آفتاب سے پہلے تک مزدلفہ نہ پہنچ سکیںان پرترک واجب کے سبب دم دینالازم ہے۔
   جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج1، کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ اداء الحج،ص230میں ہے: ثم وقت الوقوف فیہا من حین طلوع الفجر الی ان یسفر جدا فاذا طلعت الشمس خرج وقتہ ولو وقف فیہافی ہذا الوقت او مر بہا جاز۔
جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج1، کتاب المناسک، الفصل الخامس فی الطواف والسعی والرمل ورمی الجمار، ص247میں ہے: ومن ترک الوقوف بمزدلفۃ فعلیہ دم کذا فی الہدایۃ۔ اور فتاوی عالمگیری ج1، کتاب المناسک‘ الباب الخامس فی کیفیۃ اداء الحج، ص231میں ہے۔ ۔ ۔ ولوجاوزحدالمزدلفۃ قبل طلوع الفجر فعلیہ دم لترک الوقوف بھا الااذاکانت بہ علۃ اومرض اوضعف مخاف الزحام فدفع منہا لیلا فلاشیٔ علیہ۔ نیزردالمحتار ج 2، کتاب الحج، مطلب فی الوقوف بمزدلفۃ، ص194میں ہے: ولو فاتہ الوقوف بمزدلفۃ باحصار فعلیہ دم من أن ہذاعذر من جانب المخلوق فلایؤثراھ لکن یرد علیہ جعلہم خوف الزحمۃ ھنا عذرا فی ترک الوقوف بمزدلفۃ وعلمت جوابہ فتأمل۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com