***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > فضائل مکہ مکرمہ

Share |
سرخی : f 1025    کعبۃ اللہ کو غلاف چڑھانا فرض ہے یا سنت ہے یا بدعت ہے؟
مقام : انڈیا,
نام : سید عمر
سوال:    

کعبۃ اللہ کو غلاف چڑھانا فرض ہے یا سنت ہے یا بدعت ہے؟


............................................................................
جواب:    

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: جَعَلَ اللهُ الْکَعْبَةَ الْبَيتَ الْحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ- ترجمہ: اللہ تعالی نے عظمت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا سبب بنایا- (سورۃ المائدہ- 97) صحیح بخاری شریف میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ماہ رمضان کے روزوں کی فرضت آنے سے قبل اہل اسلام عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اس دن کعبۃ اللہ شریف کو غلاف چڑھایا جاتا تھا، جب اللہ تعالی نے ماہ رمضان کے روزے فرض کئے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے- (صحیح بخاری شریف، کتاب الحج، باب قول اللہ تعالی جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام . حدیث نمبر: 1515) اس حدیث کی شرح میں علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ نے آیت کریمہ کے حوالہ سے لکھا ہے: و بين الله تعالی فی الاية المذکورة انه جعل الکعبة بيتا حراما ومن حرمتها تعظيمها فعظمها المسلمون ومن جملة تعظيمهم ايا ها انهم کانوا يکسونها فی کل سنة يوم عاشوراء الذي هو من الايام المعظمة- ترجمہ: اللہ تعالی نے مذکورہ آیت کریمہ میں بیان فرمایا کہ اس نے کعبۃ اللہ شریف کو عظمت و حرمت والا گھر بنایا اور اس کی حرمت میں اس کی تعظیم کرنا بھی ہے، اس لئے مسلمانوں نے اس کی تعظیم کی ؛ کعبۃ اللہ کی تعظیم میں یہ ہے کہ وہ ہر سال عاشوراء کے دن کعبۃ اللہ کا غلاف چڑھاتے ہیں، جو عظمت والے دنوں میں سے ہے-(عمدۃ القاری، کتاب الحج، باب قول اللہ تعالی جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام . حدیث نمبر: 1515) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کعبۃ اللہ شریف کو غلاف چڑھانا صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے- واللہ اعلم بالصواب ، سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حدنرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com