***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اذان کے مسائل

Share |
سرخی : f 1030    فلم کا نام ’’اذان‘‘رکھنا کیسا ہے؟
مقام : حال مقیم امریکہ,
نام : محمداحسان الحق
سوال:     گزشتہ جمعہ ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا نام ’’اذان ‘‘ رکھا گیا، یہ فلم حیدرآباد کے بشمول کئی مقامات پردکھائی جارہی ہے ، آج کل جو فلمیں بنائی جاتی ہیں‘اُن میں بے حیائی کی تصویریں اور نیم عریاں مناظر دکھائے جاتے ہیں ،’’اذان ‘‘کے نام سے ایسی فلم ریلیز کرنے کا کیاحکم ہے؟ جبکہ اسی نام سے مسلمان ساری دنیا میں صبح وشام پانچ مرتبہ نماز کے لئے دعوت دیتے ہیں ، برائے مہربانی اس کا اطمینان بخش جواب دیں ، جزاک اللہ خیراً۔
............................................................................
جواب:     فرائض پنجگانہ کے لئے اذان سنت مؤکدہ ہے، جو اسلام کے شعائراور اس کی عظیم نشانیوں سے ہے ، اس کی تعظیم وتکریم بجالانا‘ لازمی ہے اور اس کی توہین وتنقیص اسلام کی اہانت کے مترادف ہے۔   اس سلسلہ میں ملک العلماء علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: ان الأذان من شعائر الإسلام فکان الإتیان بہ دلیل قبول الإسلام۔
ترجمہ: ’’اذان ‘‘شعائر اسلام سے ہے اور اذان کہنا‘اسلام قبول کرنے کی دلیل ہے۔
(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، کتاب السیر، فصل فی بیان ما یعترض من الأسباب المحرمۃ للقتال)
اسی طرح کی عبارتیں متعدد فقہاء اسلام نے لکھی ہیں جن میں صاحب فتاوی النوازل امام ابواللیث سمرقندی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 375ھ)‘ علامہ ابن قدامہ حنبلی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 620ھ)‘ شارح صحیح مسلم امام نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 676 ھ)‘ مالکی فقیہ علامہ احمدبن محمد صاوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1241ھ)‘ صاحب ردالمحتار،علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1252ھ)اور دیگر فقہاء کرام شامل ہیں۔
(فتاوی النوازل‘ کتاب الصلوۃ‘ باب الاذان۔ الکافی فی فقہ الامام احمد‘ کتاب الصلوۃ‘ باب الاذان۔ شرح صحیح مسلم للامام النووی‘ کتاب الصلوۃ‘ باب فضل الاذان وہروب الشیطان عند سماعہ۔ حاشیۃ الصاوی علی الشرح الصغیر‘ باب الصلوۃ۔ ردالمحتار‘ کتاب الصلوۃ‘ باب الاذان)
فلم سازی میں بہت سارے شرعی ممنوعات ہوتے ہیں جیسے بے حیائی‘ناچ گانا‘دروغ گوئی‘دھوکہ دہی ‘اسراف وغیرہ، اس وجہ سے فلم سازی شرعاً ممنوع وناجائز ہے۔
’’اذان‘‘ کے نام سے جو فلم بنائی گئی جیساکہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے۔یہ دراصل شعائراسلام کے تقدس کو پامال کرنے اور اسلامی احکام کی عظمت کو گھٹانے کے برابرہے ۔
’’اذان‘‘ حقیقت میں خالص اسلامی اصطلاح اور اسلامی قانون کا ایک قابل احترام کلمہ ہے، اس کے ذریعہ ایسی عظیم عبادت کی دعوت دی جاتی ہے جو ہرقسم کی بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور ظاہر وباطن کو پاکیزگی بخشتی ہے، ارشاد الہی ہے: إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ۔
ترجمہ: بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ (سورۃ العنکبوت۔45)
بنابریں لفظ ’’اذان‘‘ پر نیم عریاں مناظر‘بے حیائی والی تصاویر اور گانے بجانے پرمشتمل ’’فلم‘‘ کا نام نہیں رکھنا چاہئے، یہ نہ اسلامی شریعت میں جائز ہے‘ نہ عقل وخردکی رُو سے درست ہے اور نہ ملکی قانون کے لحاظ سے صحیح ہے، کیونکہ ہمارا جمہوری ملک مذہب اسلام کی حرمت کو پامال کرنے اور اس کی مقدس اصطلاحات کا کھلواڑ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتا۔
لہذا فلم ساز اداروں کو ان حرکتوں سے باز رکھنے کے لئے قانونی کارروائی کرنی چاہئے۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com