***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1032    منگیتر سے ملاقات اور گفتگو کرنا
مقام : بہادر پورہ حیدرآباد,
نام : محمد سلمان
سوال:    

میرا سوال یہ ہے کہ شادی سے قبل اپنی منگیترسے ملاقات کرنا اور گفتگو کرنا شرعی اعتبارسے کیسا ہے ؟ براہ کرم جواب عنایت فرمائیں تو نوازش ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

کسی لڑکی سے اگر شادی کی نسبت طے ہوجائے تو شرعی لحاظ سے یہ دراصل نکاح کے وعدہ کی حیثیت رکھتی ہے،محض اس کی وجہ سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا جب تک کہ گواہوں کے روبرو قاعدہ شرعی کی روشنی میں ایجاب و قبول نہ کرلیا جائے، کسی لڑکی سے نسبت طے ہوجانے سے لڑکا لڑکی کا شوہر نہیں قرار پاتا، شرعاً دونوں ایک دوسرے کے لئے اس وقت تک اجنبی ہیں جب تک دونوں کا عقد نکاح نہ ہوجائے، چنانچہ نکاح سے قبل لڑکا لڑکی کابے تکلفات میل ملاپ جائز نہیں اوربلا ضرورت شرعی باہم بات چیت کرنابھی درست نہیں۔ در مختار ج5،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی النظر والمس، ص 260،میں ہے: ولا یکلم الاجنبیۃ إلا عجوزا عطست أو سلمت فیشمتہا و یرد السلام علیہا، وإلا لا انتہی.وبہ بان أن لفظۃ لا فی نقل القہستانی: ویکلمہا بما لا یحتاج إلیہ زائدۃ، فتنبہ- واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com