***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1033    قسم کے متعلق ایک مسئلہ  
مقام : سید علی چبوترہ ،انڈیا,
نام : عبد الواجد
سوال:    

میرے گھر میں گاڑی کے متعلق بحث ہوگئی‘ بات چھوٹی سی تھی لیکن آپسی بحث کی وجہ سے بڑھ گئی اور میرے بڑے بھائی نے غصہ میں کہا کہ ’’حرام ہے اگر میں وہ گاڑی چلاؤں‘‘ جبکہ گاڑی ان ہی کی ہے‘ دوسرے دن حالات معمول پر آگئے‘ غصہ جاتا رہا‘ ضرورت کے وقت گھر کے تمام افراد گاڑی استعمال کرتے ہیں‘ لیکن اکثر بڑے بھائی صاحب کے پاس ہی ہوتی ہے وہی استعمال کرتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ گاڑی کے بارے میں اس طرح کی بات کہنے کی وجہ سے کیا انہیں کچھ خیرات کرنا چاہئے؟ اگر ہاں تو کیا خیرات کریں اور کتنا خیرات کریں؟


............................................................................
جواب:    

آپ کے بڑے بھائی صاحب نے جو کہا ’’حرام ہے اگر میں وہ گاڑی چلاؤں‘‘ فقہاء کرام نے اس طرح کے جملہ کو قسم کے حکم میں شمار کیا ہے۔ آپ کے کہنے کے مطابق انہوں نے یہ جملہ کہنے کے بعد گاڑی استعمال کرلی ہے‘ جس کی وجہ سے ان کی قسم ٹوٹ گئی لہٰذا انہیں قسم کا کفارہ دینا لازم ہوگا‘ اور اس طرح کے الفاظ کہنے سے توبہ کرنی چاہئے ۔ جیسا کہ علامہ فخر الدین عثمان بن علی زیلعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 843ھ) نے لکھا ہے: قال رحمہ اللہ (ومن حرم ملکہ لم یحرم) ای من حرم علی نفسہ شیئا مما یملکہ بان یقول مالی علی حرام او ثوبی او جاریتی فلانۃ او رکوب ھذہ الدابۃ لم یصر محرما علیہ لذاتہ لانہ قلب المشروع و تغےیرہ ولا قدرۃ لہ علی ذلک بل اللہ تعالی ھو المتصرف فی ذلک بالتبدیل قال رحمہ اللہ (وان استباحہ کفر) ای ان اقدم علی ما حرمہ یلزمہ کفارۃ الیمین لانہ ینعقد بہ یمینا فصار حراما لغیرہ۔ (تبیین الحقائق، ج3کتاب الایمان‘ ص436) قسم کا کفارہ شریعت میں ایک غلام آزاد کرنا، یا دس (10) مسکینوں کو صبح و شام پیٹ بھر کھانا کھلانا ، یا صبح و شام یعنی پورے ایک دن کے کھانے کی قیمت دینا ، یا دس (10) مسکینوں کو بدن ڈھکنے کے موافق متوسط لباس دینا ہے۔ اگر کوئی شخص ان تمام کفاروں سے عاجز ہے تو اس کو چاہئے کہ تین دن پے درپے روزہ رکھے۔ اگر روزوں کے درمیان بھی اس کو کہیں سے روپیہ مل جائے یا ملنے کی قوی امید ہوتو اس پر حسب تفصیل سابق تین چیزوں میں سے ایک چیز واجب ہے۔ رد المحتار علی الدرلمختار ‘کتاب الایمان ج3 ص 26میں ہے: (وکفارتہ تحریر رقبۃ اواطعام عشرۃ مساکین) کما مرفی الظھار (اوکسوتھم بما) یصلح للاوساط وینتفع بہ فوق ثلاثہ اشھر ۔ (یسترعامۃ البدن وان عجز عنھا) کلھا (وقت الاداء صام ثلاثۃ ایام ولاء والشرط استمرار العجز الی الفراغ من الصوم فلو صام المعسر یومین ثم) قبل فراغہ ولوبساعۃ (ایسر) ولوبموت مورثہ موسرا (لایجوز الصوم) ویستانف بالمال ۔اور ج2 باب الکفارۃ ص 895 میں ہے: اوقیمۃ ذٰلک وان غداھم وعشاھم جاز۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com