***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > جنایات کے مسائل

Share |
سرخی : f 1036    مکی، حرم سے عمرہ کا احرام باندھے تو کیا حکم ہے؟
مقام : جدہ,
نام : محی الدین
سوال:    

مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں رہنے والے ایک صاحب نے حرم شریف سے عمرہ کا احرام باندھا ، کیا ان کا یہ عمل درست ہے؟ اگر نہیں تو اب انہیں کیا کرنا چاہئیے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے عمرہ کا احرام باندھنے والے شخص کی میقات حل ہے، اس لئے ایسے شخص کو چاہےئے کہ حدود حرم سے باہر آکر احرام باندھے، خواہ مکہ مکرمہ کا باشندہ ہو یا نہ ہو، حرم شریف میں موجود رہتے ہوئے حرم سے احرام باندھنا ازروئے شرع جنایت قرار پاتا ہے، بنابریں مکہ مکرمہ میں موجودکسی صاحب نے حرم سے ہی احرام باندھ لیا ہو تو ازروئے شریعت ان پر دم واجب ہے۔ البحرالرائق، کتاب الحج میں ہے: (قولہ وللمکی الحرم للحج والحل للعمرۃ) أی میقات المکی إذا أراد الحج الحرم فإن أحرم لہ من الحل لزمہ دم وإذا أراد العمرۃ الحل فإذا أحرم بہا من الحرم لزمہ دم لأنہ ترک میقاتہ فیہما وہو مجمع علیہ والمراد بالمکی من کان داخل الحرم سواء کان بمکۃ أو لا وسواء کان من أہلہا أو لا۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com