***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > زکوٰۃ واجب ہونے کی صورتیں

Share |
سرخی : f 104    کن چیزوں کی زکوۃ نکالنا ضروری ہے ؟
مقام : آسٹریلیا,
نام : خواجہ قطب الدین
سوال:    

زکوۃ سونا چاندی کے علاوہ کن چیزوں کی نکالی جاتی ہے ؟ کیا لائف انشورنس میں جو پریمیم ادا کیا جاتا ہے جو ایک ایک سال سے زیادہ مدت تک دیا جاتا ، اس پر بھی ‎ زکوۃ نکالی جائے تو کس طرح نکالنا چاہئے ؟


............................................................................
جواب:    

زکوۃ فریضہ اسلامی ہے جو ہر صاحب نصاب (جو شخص 60 گرام 755 ملی گرام سونا یا 425 گرام 285 ملی گرام چاندی کا مالک ہو) پر فرض ہے – سونا چاندی کے علاوہ نقد رقم ، سامان تجارت شیرز وغیرہ کی زکوۃ نکالنا فرض ہے جبکہ وہ نصاب تک پہنچے اور اس پر سال گذر جائے ، زکوۃ نکالنے کے لئے نقد رقم میں اس رقم کو بھی محسوب کیا جائے جو آپ نے کسی کو بطور قرض دی ہو یا بنک میں فکس ڈپازٹ کروائی ہو یا کسی کے پاس بطور امانت رکھی ہو – اسی طرح اگر زمین ، فلیٹ ، کامپلکس وغیرہ کرایہ پر دئے جاتے ہوں ، اس کا کرایہ نصاب تک پہنچتا ہو اور اس پر سال گزرتا ہو تو اس رقم کی زکوۃ نکالی جائے گی – اب رہا یہ سوال کہ لائف انشورنس کی زکوۃ نکالنی ہے یا نہیں تو اس سلسلہ میں یہ بات واضح رہے کہ اس کا حکم دار الاسلام اور دار الحرب کے اعتبار سے جدا جدا ہے ، ہندوستان چونکہ دار الحرب ہے اور فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ دار الحرب میں بیوع فاسدہ جائز ہیں اور مسلمان و غیر مسلم کے درمیان کمی وزیادتی کے ساتھ ہونے والا معاملہ سودی معاملہ نہیں قرار پاتا لہذا ہندوستان میں لائف انشورنس جائز ہے – ہدایہ ج 3 ،ص 86 ، میں ہے : قَالَ ( وَلَا بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْحَرْبِيِّ فِي دَارِ الْحَرْبِ ) خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ . وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ { لَا رِبَا بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْحَرْبِيِّ فِي دَارِ الْحَرْبِ } وَلِأَنَّ مَالَهُمْ مُبَاحٌ فِي دَارِهِمْ فَبِأَيِّ طَرِيقٍ أَخَذَهُ الْمُسْلِمُ أَخَذَ مَالًا مُبَاحًا إذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ غَدْرٌ ، بِخِلَافِ الْمُسْتَأْمِنِ مِنْهُمْ لِأَنَّ مَالَهُ صَارَ مَحْظُورًا بِعَقْدِ الْأَمَانِ . لائف انشورنس پالیسی کے تحت آپ کی طرف سے جمع شدہ رقم گوکہ فی الوقت آپ کی پاس نہیں لیکن درحقیقت آپ اس کے مالک ہیں اسی لئے اگر اس رقم کی مقدار نصاب تک پہنچتی ہو تو سال گزرنے پر اس کی زکوۃ نکالنا ضروری ہے ، البتہ کمپنی کی جانب سے جو اضافی رقم ملنے والی ہے جب وہ آپ کو موصول ہوجائے اور اس پر سال گذر جائے تو اس میں زکوۃ واجب ہوگی - اسلامی مملکت میں چونکہ رقم کے تبادلہ میں کمی وزیادتی سود قرار پاتی ہے لہذا اسلامی ممالک میں انشورنس کروانا جائز نہیں اور اس سے جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ سود ہے جو ازروئے شریعت قطعی حرام ہے ، اس کو لینے دینے والا گنہگار ہے - واللہ اعلم بالصواب – سید ضیاء الدین ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر –

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com