***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 1043    بیل کی قربانی افضل ہے یا بکرے کی ؟
مقام : نیلور,
نام : محمد احمد
سوال:    

حضرت مفتی صاحب میراسوال یہ ھیکہ تلنگانہ میں بعض لوگ گائے میں حصہ ملتے ہیں اور بعض لوگ بکری قربانی دیتے ہیں ، لیکن مجھے یہ جاننا ہے کہ افضل قربانی گائے کی ہے یا بکری کی ؟ جواب عنایت فرمائیں ،بہت بڑی مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

قربانی کے جانوروں میں اگر دو جانوروں کی قیمت اور اُن کے گوشت کی مقدار برابر ہوتو جس جانور کا گوشت اچھا ہو وہ افضل ہے ، اگر گوشت کی مقدار مختلف ہوتو جس کا گوشت زیادہ ہے وہ افضل ہے۔ قربانی کے لئے بکری اور بیل کا ساتواں حصہ دونوں‘گوشت کی مقدار اور قیمت میں برابر ہوں تو بکری افضل ہے کیونکہ بکری کا گوشت زیادہ عمدہ ہوتاہے ، اگر بیل کے ساتویں حصہ میں بکری سے زیادہ گوشت ہوتوگائے کاساتواں حصہ افضل ہے ،اگر مینڈھا وبھیڑیا دنبہ ودنبی قیمت میں برابرہوں اور گوشت کی مقدار بھی یکساں ہوتومینڈھا بھیڑسے افضل ہے اور دنبہ دنبی سے افضل ہے ، گائے بیل یا اونٹ اونٹنی برابرہوں تو گائے بیل سے اور اونٹنی اونٹ سے افضل ہے ۔ رد المحتار کتاب الاضحیۃمیں ہے : ( قولہ إذا استویا إلخ ) فإن کان سبع البقرۃ أکثر لحما فہو أفضل ، والأصل فی ہذا إذا استویا فی اللحم والقیمۃ فأطیبہما لحما أفضل ، وإذا اختلفا فیہما فالفاضل أولی تتارخانیۃ ( قولہ أفضل من النعجۃ ) ہی الأنثی من الضأن قاموس ( قولہ إذا استویا فیہما ) فإن کانت النعجۃ أکثر قیمۃ أو لحما فہی أفضل ذخیرۃ ط ( قولہ والأنثی من المعز أفضل ) مخالف لما فی الخانیۃ وغیرہا...... (قولہ وفی الوہبانیۃ إلخ) تقیید للإطلاق بالاستواء أی:أن الأنثی من الإبل والبقر أفضل إذا استویا۔قال فی التتارخانیۃ لأن لحمہا أطیب ا ہ۔ وہو الموافق للأصل المار. واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com