***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 1046    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قربانی کرنا
مقام : دبئی ،امارات,
نام : کلیم احمد
سوال:     لوگ عید الاضحی کے موقع پر اپنی جانب سے قربانی دیتے ہیں اور صاحب استطاعت ایک قربانی خاص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کرتے ہیں اس کے بارے میں بتلائیے کہ یہ درست ہے یا نہیں ، ہمارے پاس بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ،میرے ایک دوست نے حدیث شریف بیان کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنے کی وصیت کی تو اس بات پر دوسرے دوست نے کہا کہ یہ حکم خاص علی رضی اللہ عنہ کے لئے تھا اور انہوں نے کیا ، امت میں دوسروں کے لئے نہ یہ حکم تھا ، نہ اب کسی کو کرنا چاہئے ؟ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرسکتا ہوں یا نہیں ؟
............................................................................
جواب:     حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا معمول تھا کہ آپ اپنی واجب قربانی کے علاوہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قربانی کیاکرتے تھے‘ جیساکہ جامع ترمذی شریف ج1ص275 (حدیث نمبر:1574)میں حدیث پاک ہے : عن حنش عن علی انہ کان یضحی بکبشین احدہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم والاٰخرعن نفسہ فقیل لہ قال امرنی بہ یعنی النبی صلی اللہ علیہ فلاادعہ ابدا۔ ترجمہ:حضرت حنش رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ دو دنبے ذبح فرمایا کرتے‘ ایک حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اور دوسرا خوداپنی طرف سے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا توفرمایا: مجھے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قربانی کا حکم فرمایا، لہٰذا میں اس عمل کو کبھی ترک ہونے نہیں دوں گا۔
اس حدیث شریف سے استدلال کرتے ہوئے علماء محققین نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے قربانی کرنے کو مشروع قرار دیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قربانی کرنے کا جواز و استحباب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے ہی خاص نہیں بلکہ تمام امتیوں کے لئے عام ہے۔
اگر اس حکم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے خاص مانا جائے ‘ تو پھر ایسی کئی ایک احادیث مبارکہ ہیں جس میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ذکر کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس عمل کا حکم فرمایا‘ تو کیا وہ تمام احادیث شریفہ کو روایت کرنے والے ان ہی صحابہ کرام کے ساتھ خاص کیا جائے گا؟ مثال کے طور پر سنن ابوداؤد شریف میں حدیث پاک ہے عن عقبۃ بن عامر قال امرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اقراء بالمعوذات دبرکل صلوۃ ۔  ترجمہ : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات یعنی سورہ قل اعوذ برب الفلق ، قل اعوذبرب الناس پڑھوں (سنن ابوداؤد، حدث نمبر: 1525)۔ تو کیا ہر نماز کے بعد سورۂ فلق و سورۂ ناس پڑھنا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے لئے خاص ہے؟ نہیں!! بلکہ ہر امتی کے لئے ہے۔  
سنن نسائی میں حدیث پاک ہے  عن ام شریک قالت امرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقتل الاوزاغ : ترجمہ: سیدتنا ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گرگٹ مارنے کا حکم فرمایا (سنن نسائی ، باب قتل الوزغ ، حدیث نمبر: 2885)۔ تو کیا گرگٹ مارنے کا یہ حکم ام شریک رضی اللہ عنہا کے لئے ہی ہے؟ نہیں!! بلکہ عام ہے۔
سنن ترمذی میں حدیث شریف مذکور ہے عن زید بن ثابت قال امرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اتعلم السریانیۃ۔  ترجمہ: سید نا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایاکہ میں سریانی زبان سیکھوں ، (سنن ترمذی ابواب الاستیذان ، باب ماجاء فی تعلیم السریانیۃ ، حدیث نمبر: 2933)۔تو کیا دیگر زبانوں کے سیکھنے کا جواز صرف حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہی کے لئے ہے؟ نہیں!! بلکہ سب کے لئے ہے۔
اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں وارد حکم بھی عام ہے ان احادیث شریفہ میں امر نبوی کی وجہ تمام امت کے لئے اجازت ملتی ہے اور استحباب ثابت ہوتا ہے‘ اگر منع ہوتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے کہ یہ حکم میرے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قربانی کرنے کی اجا زت نہیں ، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایسی کوئی روایت حدیث شریف کی کسی کتاب میں موجو د نہیں ہے ۔
لہذا آپ اپنی واجب قربانی اداکرنے کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے قربانی کریں تو یہ بڑی سعادت وشرف کی بات ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com