***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > طواف کے مسائل

Share |
سرخی : f 1050    طوافِ وداع سے متعلق ایک سوال
مقام : جدہ بذریعہ ای میل,
نام : غیرمذکور
سوال:     ہمارے عزیزوں میں ایک خاتون اپنے خاندان کے ساتھ حیدرآباد سے حج کے لئے آئی ہوئی ہیں ،وہ حج کی سعی تو کرچکی لیکن طواف وداع نہیں کیا اوراب وہ ایام میں آچکی ہے ،ان لوگوں کی واپسی کی تاریخ کو قطعیت دی جاچکی ہے ،اب میرا سوال یہ ہیکہ کیاانہیں طواف وداع نہ کرنے کی وجہ سے کیا یاکفارہ واجب ہوگا؟ براہ مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں ممنون رہوں گا-
............................................................................
جواب:     طواف وداع آفاقی (میقات کے باہر سے آنے والے) کے لئے واجب ہے ،لیکن اگرکوئی عورت حج کی سعی کرنے کے بعدطواف وداع نہیں کی ،ماہواری شروع ہوگئی اورواپسی کی تاریخ بھی قطعیت پاچکی تو اِس عذرکی بناء اُس عورت سے طوافِوداع ساقط ہوجائے گا-جیساکہ درمختار،کتاب الحج ج 2ص 161میں ہے :   ( وَطَوَافُ الصَّدَرِ ) أَیْ الْوَدَاعِ ( لِلْآفَاقِیِّ ) غَیْرِ الْحَائِضِ ۔  اورردالمحتارکے اسی صفحہ پرہے :   ( قَوْلُہُ غَیْرِ الْحَائِضِ ) لِأَنَّ الْحَائِضَ یَسْقُطُ عَنْہَا.   
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com