***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > طواف کے مسائل

Share |
سرخی : f 1051    اکسڈینٹ کی بناطواف زیارت میں تاخیر کاحکم
مقام : دلسکھ نگر،حیدرآباد,
نام : نسیم خان
سوال:     ہمارے ساتھی جوہمارے ساتہ گذشتہ سال حج میں رہے منی میں ایک اکسیڈنٹ کی وجہ سے زخمی ہوگئے تھے،انہوں نے طواف زیارت نہیں کیا تھا،حادثہ میں زخمی ہونے کے فورا بعد انہیںدواخانہ منتقل کیا گیا ،بارہ ذی الحجہ تک وہ دواخانہ میں شریک رہے،بارھویں تاریخ کے بعد جب کچہ افاقہ محسوس ہوا تو انہوں نے طواف زیارت کیا، کیا بارہ تاریخ کے بعد طواف زیارت کرنے کی وجہ سے انہیں دم دینا ہوگا؟ اس کے ساتہ یہ بھی جاننا چاہتاہوں کہ بلاعذراگرطواف زیارت میں تاخیر کی جائے تو کیا حکم ہے؟  
............................................................................
جواب:     سوال میں درج تفصیل کے مطابق آپ کے ساتھی منی میں زخمی ہونے کے باعث دواخانہ میں شریک کردئے گئے تھے،اس عذر کی وجہ سے وہ دوبارہ بارھویں ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک طواف زیارت نہیں کرسکے،اس کے بعد انہوں نے جب طواف زیارت کرلیا تو ازروئے شرع ان کے ذمہ سے طواف زیارت ساقط ہوگیا،یہ تاخیر چونکہ عذر کے سبب ہوئی ہے اس لئے ان پر دم واجب نہ ہوگا،  
طواف زیارت حج کا رکن اعظم ہے،اس کی کسی چیز سے تلافی نہیں ہوسکتی،بغیر اداکئے کے یہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا،اورطواف کرنے تک بیوی سے ازدواجی تعلقات جائز نہیں ہوسکتے ،اس کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے بارھویں ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے، اور دسویں تاریخ کو کرناافضل ہے،اگر بغیر کسی عذر کے اس مدت میں طواف زیارت نہ کیا جائے تو تاخیر کی وجہ سے دم واجب ہوگااور طواف تو بہر صورت کرنا ہی پڑے گا خواہ کتنی ہی مدت گذرجائے،کیونکہ یہ طواف فرض ہے،البتہ کسی شرعی عذر کے سبب بارہویں کے غروب آفتاب تک طواف زیارت نہ کیا جاسکے تو اس تاخیر کی وجہ دم واجب نہ ہوگا اورعذر کے ساقط ہوتے ہی فوری طواف کرناضروری ہے-
جیساکہ مناسک ملاعلی قاری مع حاشیہ ارشادالساری باب طواف الزیارۃ ص 257/256 میں ہے
:(وهذاالطواف ھو المفروض فی الحج ولا يتم الحج الابه)ای لکونه رکنا بالاجماع ۔۔۔۔۔(طلوع الفجر الثانی من يوم النحر فلا يصح قبله)۔۔۔۔ (ولا آخرله فی حق الصحة فلو اتی به ولو بعد سنين صح ولکن يجب فعله فی ايام النحر)۔۔۔۔(فلو اخر عنها)ای بغيرعذر(ولو الی آخر ايام التشريق لزمه دم)ای علی الاصح۔۔۔۔۔(ولافوات قبل الممات ولا يجزئ عنه البدل)ای الجزاء۔۔۔۔
مناسک ملاعلی قاری مع حاشیہ ارشادالساری فصل فی واجباته ص82 پر ان امور کے بیان میں ہے جن سے دم واجب نہیں ہوتا
(وتاخير طواف الزيارۃ عن ايامه)ای عند الامام (لحيض او نفاس)وکذالحبس او مرض-
واللہ اعلم بالصواب –
سید ضیاء الدین ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ,
وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر –
www.ziaislamic.com

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com