***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کی سنتیں اور مستحبات

Share |
سرخی : f 1052    قعدہ اخیرہ میں ایک سے زائد دعائیں پڑھنے کا حکم
مقام : جدہ,
نام : محمد فاروق محی الدین
سوال:    

نماز میں جو دعاء ماثورہ اللہم انی ظلمت نفسی پڑھی جاتی ہے ‘ کیا اس کے بعد کوئی اور ماثور دعا پڑھی جاسکتی ہے؟ یا اس سے نماز میں کوئی فرق آئے گا؟ براہ کرم جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

آپ نے سوال میں جو ماثور دعاء ذکر کی ہے قعدہ اخیرہ میں اسے پڑھنے کے بعد کوئی اور ماثور دعا پڑھنا جائز ہے کیونکہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد اپنے لئے جو دعا پسند فرماتے دعا کرتے۔ جیسا کہ ہدایہ‘ ج1‘ باب صفۃ الصلوٰۃ ‘ ص113میں ہے: ولا یزید علی ھذا فی القعدۃ الاولی لقول ابن مسعود علمنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم التشھد فی وسط الصلوٰۃ و اخرھا فاذا کان وسط الصلوٰۃ نھض اذا فرغ من التشھد و اذا کان اخر الصلوٰۃ دعا لنفسہ ماشاء۔ نیز صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک مرقوم ہے: عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اذا فرغ احدکم من التشھد الاخیر فلیتعوذ باللہ من اربع من عذاب جہنم و من عذاب القبر و من فتنۃ المحیا و الممات ومن شر فتنۃ المسیح الدجال۔ ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی قعدہ اخیرہ میں تشہد سے فارغ ہوجائے تو چاہئے کہ وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے! (1) دوزخ کے عذاب سے‘ (2) قبر کے عذاب سے‘ (3) زندگی اور موت کے فتنہ سے اور (4) دجال کے فتنہ کے شر سے۔﴿صحیح مسلم شریف‘ باب مایستعاذ منہ فی الصلوۃ‘ حدیث نمبر1254 ﴾ قعدہ اخیرہ میں ان ہی الفاظ سے دعا کی جائے جو ماثور ہوں یا آیات قرآنیہ اور ادعیۂ ماثورہ کے مشابہ ہوں اور ایسے الفاظ سے دعا نہ کی جائے جو لوگوں کے کلام سے مشابہ ہو‘ اذکار نماز کے بعد نمازی کے لئے مستحب ہے کہ یہ دعا پڑھے: رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلَاۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۔رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ۔ ہدایہ‘ ج1‘ باب صفۃ الصلوٰۃ ‘ ص113میں ہے: و دعا بما یشبہ الفاظ القرآن والادعیۃ الماثورۃ ۔ ۔ ۔ ولا یدعو بما یشبہ کلام الناس تحرزا عن الفساد۔ اور فتاویٰ عالمگیری ‘ج1‘ کتاب الصلوۃ‘ ص76 میں ہے: و یستحب ان یقول المصلی بعد ذکر الصلاۃ فی اخر الصلاۃ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلَاۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ ۔رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ۔کذا فی التتارخانیۃ ناقلا عن الحجۃ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com