***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > سجدۂ سہو کے مسائل

Share |
سرخی : f 1057    نماز میں سورۂ فاتحہ سے پہلے کوئی اور سورۃ پڑھ لے تو کیا حکم ہے؟
مقام : بوئن پلی،انڈیا,
نام : منیراحمد
سوال:    

کسی نے نماز میں سورۃ فاتحہ سے پہلے کوئی اور سورۃ پڑھ لی ، پڑھتے وقت یاد آگیا کہ میں نے سورہ فاتحہ نہیںپڑھا ، کیا اس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگا ؟ یا اب وہ اس سورہ کو مکمل کرکے سورہ فاتحہ پڑھے یا وہ سورہ چھوڑ کر سورۂ فاتحہ پڑھے پھر دوسرا سورہ پڑھے ؟ تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

کوئی شخص نماز میں سورہ فاتحہ کے بجائے بھول کر دوسری سورۃ پڑھنے لگے اور اسے یاد آجائے تو اس کو چاہئے کہ پہلے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرے ۔ اس کے بعد کوئی اور سورہ کی تلاوت کرلے ۔ اگر اس نے سورۂ فاتحہ سے پہلے دوسری سورۃکی ایک مکمل آیت تلاوت کرلی تھی تو سجدۂ سہو لازم ہوگا ؛کیونکہ ایک آیت کے بقدر تلاوت کرنا رکن ہے اور ایک رکن ادا کرنے کی مقدار سورۂ فاتحہ کی تلاوت میں تاخیر واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب ہوجاتا ہے ۔ اگر ایک آیت سے کم تلاوت کیا تو اس قدر تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ۔ جیسا کہ ردالمحتارج 1،کتاب الصلوٰۃ،واجبات الصلوٰۃ،ص340میں ہے :لو قرأ حرفا من السورۃ ساہیا ثم تذکر یقرأ الفاتحۃ ثم السورۃ ، ویلزمہ سجود السہو بحر ، وہل المراد بالحرف حقیقتہ أو الکلمۃ ۔ ۔ ۔ وقیدہ فی فتح القدیر بأن یکون مقدار ما یتأدی بہ رکن .ا ہ۔ .أی لأن الظاہر أن العلۃ ہی تأخیر الابتداء بالفاتحۃ والتأخیر الیسیر ، وہو ما دون رکن معفو عنہ تأمل . ترجمہ: اگر کسی نے غلطی سے سورۂ فاتحہ کے بجائے کوئی دوسری سورۃ کی کم از کم ایک آیت تلاوت کرلے پھر اسکویاد آجائے تو وہ سورۂ فاتحہ پڑھے پھر ضم سورہ کرے اور سجدہ سہوکرلے ‘اس لئے کہ سورۂ فاتحہ کی تلاوت میں تاخیر کی وجہہ سے سجدہ سہوواجب ہوا ہے۔ تھوڑی سی تاخیر جو ایک رکن اداکرنے یاایک آیت پڑھنے سے کم ہو وہ معاف ہے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاء الدین نقشبندی عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹرwww.ziaislamic.com حیدرآباد،دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com