***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 108    کیامیناحلال پرندہ ہے  
مقام : بودھن ،آندھراپردیش,
نام : محمدافضل خان
سوال:     السلام علیکم !حضرت مفتی صاحب میراسوال یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں مینا کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا اس کا کھاناحلال ہے یا حرام ؟اس کا جواب جلدعنایت فرمائیں توبہت مہربانی ہوگی
............................................................................
جواب:     :سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے ‘حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے درندوں میں سے ہرکونچلی والے جانوراورپرندوں میں سے ہرپنجہ والے پرندہ سے منع فرمایا۔

(صحیح مسلم شریف ج۲ص ۱۴۷،حدیث نمبر:۳۵۷۴)

احادیث شریفہ کی روشنی میں فقہاء اسلام نے فرمایاہے کہ جوپرندے دانہ چگتے ہیں ،پنجہ سے زخم نہیں لگاتے اورحملہ نہیں کرتے وہ حلال ہیں اورجوپرندے پنجہ سے حملہ کرتے ہیں اورزخم لگاتے ہیں وہ حرام ہیں ۔

مینا جوچڑیاکی ایک قسم ہے ،وہ پنجہ سے حملہ نہیں کرتی ،دانہ چگتی ہے ،لہذامیناحلال پرندہ ہے اس کا گوشت حلال ہے ،اوراس کا انڈابھی جائزہے ۔

فتاوی عالمگیری ج۵ص۲۸۹میں ہے
:اماالمستانس من السباع وھوالکلب والفھد السنورالاھلی فلایحل وکذلک المتوحش فمنھا المسمی بسباع الوحش والطیروھوکل ذی ناب من السباع وکل ذی مخلب من الطیر۔ ۔ ۔ ومالامخلب لھ من الطیروالمستانس منھ کالدجاج والبط و المتوحش کالحمام والفاختۃ والعصافیر
۔

واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ ،

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

حیدرآباد دکن۔



All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com