***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > جنازہ کے مسائل

Share |
سرخی : f 1084    جنازہ کوکندھادینا
مقام : انڈیا,
نام : کلیم الدیں
سوال:     حال ہی میں ہمارے عزیزوں میں ایک شخص کا انتقال ہوگیا ، جنازہ کو کندھادینے کے موقع پر ایک صاحب نے آہستہ سے مجھ سے کہا کہ تمہاری بیوی حاملہ ہے تم جنازہ کوکندھامت دوتو کیا شریعت مطہرہ میں ایسا کوئی حکم ہے؟
............................................................................
جواب:     اسلام میں بدشگونی وبدفالی کا کوئی تصور نہیں ہے کیوں کہ یہ زمانۂ جاہلیت کے ان باطل تصورات اورمن گھڑت اعتقادات سے ہے جن کی اسلام نے سختی سے ممانعت کی ہے صحیح بخاری شریف ج 2 کتاب الطب  ص  856میں حدیث شریف ہے  ’’عن ابن عمران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لا عدوی ولاطیرۃ۔
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ بدشگونی کوئی چیز ہے ۔
جنازہ کوکندھادینا شریعت میں ایک متحسن ومسنون عمل ہے جس پر اجروثواب کی بشارت دی گئی ہے، حاملہ عورت کا شوہر اگر جنازہ کوکندھادے تویقینا اس نے ایک کارخیرکیا ہے اس کے عمل سے بدشگونی وبدفالی لینا سراسرغلطی ہے اسلام میں اسکی کوئی گنجائش نہیں ہے، شریعت میں جنازہ کوکندھادینے او راس کے پیچھے چلنے کے کثرت سے فضائل وارد ہیں صحیح بخاری شریف ج 1،کتاب الجنائز،باب من انتظرحتی یدفن  ص 177میں ہے ’’ان اباہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من شہدالجنازۃ حتی یصلی علیہ فلہ قیراط ومن شہد حتی یدفن کان لہ قیراطان۔ قیل وماالقیراطان قال مثل الجبلین العظیمین ‘‘
حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی نمازجنازہ میں حاضرہویہاں تک کہ وہ اس پر نمازپڑھ لے تو اس کے لئے ایک قیراط ہے او رجو تدفین تک حاضررہے تو اس کے لئے دوقیراط ہے، عرض کیا گیا دوقیراط کیا ہیں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دوبڑے پہاڑوں کے برابر(اجروثواب )۔  
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com