***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1085    نماز بیٹھ کر پڑٕھنا کب درست ہے ؟
مقام : ہمایوں نگر ۔انڈیا,
نام : محمد الیاس
سوال:    

حالت مرض میں اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوتا ہے خصوصا عمر رسیدہ لوگ کھڑے ہوکر نماز ادا نہیں کرسکتے کبھی تو بیٹھنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ بیماری کی اس صورت میں کس طرح نماز پڑھنا چاہئے ؟


............................................................................
جواب:    

اگربیماری میں مبتلا شخص کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہے تو اس کو فرض نماز کھڑے ہوکر پڑھنا لازم و ضروری ہے اور سورہ فاتحہ و ضم سورہ پڑھنے تک بھی قیام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا بلکہ صرف کچھ دیر قیام کرسکتا ہے تو جتنی دیر قیام کی طاقت ہو اس کے بقدر کھڑے ہوکر قرات کرتا رہے اور جب قیام سے عاجز آجائے تو بیٹھ جائے اور مابقی تلاوت اور بقیہ نماز بیٹھ کر ادا کرلے ۔ مندرجہ ذیل صورتو ںمیں نماز کے آغاز ہی سے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے : 1۔کھڑے ہونے کی طاقت ہی نہیں 2۔کھڑے ہونے سے مرض بڑھنے کا خوف ہو۔3۔مرض زائل ہونے میں تاخیر ہوتی ہے 4۔کھڑے ہونے سے شدت کی تکلیف ہوتی ہے ۔ بیٹھ کر پڑھنے کی صورت میں سر کے اشارہ سے رکوع کرے ۔اگر سجدہ زمین پر کرسکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اشارہ سے کرلے اور رکوع کی بہ نسبت سجدے کے لئے سر کو کسی قدر زیادہ جھکائے اگر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی طاقت نہیں تو لیٹ کر اس طرح پڑھے کہ چٹ لیٹ جائے پیر قبلہ کی طرف ہوں اور گھٹنوں کو کھڑے کرے اور سر کو تھوڑا سا اٹھائے تاکہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو ۔سیدھی جانب کروٹ ہوکر بھی پڑھ سکتے ہیں اور اس وقت چہرہ قبلہ کی طرف ہواور پیر جنوب کی طرف ہوں۔ درمختار ج ا ص 955 تا 265 میں ہے (من تعذرعلیہ القیام) ای کلہ ( المرض) ۔ ۔ ۔ (الخ) ترجمہ : جس شخص پر بیماری کی وجہ سے قیام کرنا دشوار ہو اس طور پرکہ بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو یا شفایابی میں تاخیر کا خدشہ ہو یا ٹہرنے سے سخت تکلیف ہوتو رکوع اور سجدے کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور اگر کچھ دیر قیام پر قدرت ہوتو حتی المقدور لازمی طور پر قیام کرے ‘ اگر یہ بھی دشوار ہوتو بیٹھ کر اشارہ سے پڑھ لے اور رکوع کے مقابل سجدہ میں سرکو زائد جھکائے اگر بیٹھنا مشکل ہوتو لیٹ کر اشارہ سے پڑھے بلکہ پیر قبلہ کی جانب ہوں لیکن اپنے گھٹنے کو کھڑا رکھے کیونکہ قبلہ کی جانب پیر دراز کرنا مکروہ ہے اور اپنے سر کو تھوڑا سا اونچا رکھے تاکہ چہرہ قبلہ کی سمت رہے یا کروٹ ہوکر اشارہ سے پڑھے اور چہرہ قبلہ کی طرف ہو ۔ردالمتحارج1 صفحہ 955میں ہے : احتراز عماہ عداذلک من النوافل فانھا تجوزمن قعود بلا تعذرقیام البتہ نفل نماز میں قیام دشوار نہ ہونے کے باوجود بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com