***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > وضو کے مسائل

Share |
سرخی : f 11    بوقت وضوچہرہ پرپانی مارنا
مقام : حیدرآباد ،,
نام : عبد السمیع خان
سوال:    

موسم گرما کی وجہ سے لوگ گرمی سے بچاو کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے ، سخت گرمی کے وقت وضو کے لئے ٹھنڈا پانی مل جائے تو کچھ دیر کیلئے راحت مل جاتی ہے لیکن بعض لوگ وضو کرتے وقت چہرہ پر زور سے پانی مارتے ہیں جبکہ دیکھنے والوں کے لئے یہ عمل اچھا معلوم نہیں ہوتا ،


............................................................................
جواب:    

وضومیں چہرہ دھوتے وقت چہرہ پر پانی مارنا اورسختی سے چہرہ پر پانی ڈالنا مکروہ ہے اس کی وجہ سے قریب میں وضو کرنے والوں پر چھینٹے پڑسکتے ہیں جیسا فتاوی عالمگیری ج 1، کتاب الطهارة ، الفصل الرابع فی المکروهات, ص 9,میں ہے:فمنها التعنيف فی ضرب الماء علی الوجه      ترجمہ: وضوکے مکروہات میں چہر ہ پر زور سے پانی مارنا ہے لہذا اس طرح کے عمل سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com