***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > تقدیر پر ایمان لانے کا بی

Share |
سرخی : f 1103    ناموں سے بدشگونی لینے کی ممانعت
مقام : انڈیا,
نام : عارف جمال
سوال:    

میرا نام عارف جمال ہے، پہلے میرا نام عارف خان تھا تو میں نے بدل کر عارف جمال رکھ لیا، اس کے بعد سے میں بہت پریشان رہتا ہوں، کیا میرے نام بدلنے کی وجہ سے ایسا ہورہا ہے- برائے مہربانی مجھے اس بارے میں بتائیں-


............................................................................
جواب:    

اگر آپ نے اپنا نام عارف خان سے بدل کر عارف جمال رکھا ہے تو یہ بہتر ہے- آپ کا نام عارف خان بھی اچھا تھا اور عارف جما ل اور خوب ہے- اس میں خوبصورتی کا معنی و مفہوم ہے- نام بدلنے سے پریشانی نہیں آتی- آپ ایسے غلط خیالات اور وسوسوں سے بچیں اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھتے رہیں- حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ناموں سے بدشگونی لینے سے منع فرمایا ہے- سنن ابو داؤد شریف حدیث پاک ہے حدثنا قطن بن قبیصۃ عن ابیہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول العیافۃ والطیرۃ والطرق من الجبت- ترجمہ: حضرت قطن بن قبیصہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا پرندہ کے ذریعہ فال لینا، کسی چیز سے بدشگونی لینا اور کنکریوں سے فال نکالنا شیطانی کام ہے- ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے "عیافۃ" کی شرح کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے العیافۃ بکسر العین وھی زجر الطیر والتفاؤل ولاعتبار فی ذلک باسمائھا- "عیافہ" کا مطلب یہ ہے کہ پرندہ کو چھوڑ کر اس کے نام سے فال لیا جائے (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، باب الفال والطیرۃ) (سنن ابو داؤد شریف، کتاب الطب، باب فی الخط و زجر الطیر حدیث نمبر: 3909) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com