***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > پانی کے مسائل

Share |
سرخی : f 1108    ٹب میں خون گرجائے تو کیا حکم ہے؟
مقام : UK,
نام : محمودشریف
سوال:     میرا سوال پانی سے متعلق ہے ، پانی کے ٹب میں خون کے ایک دوقطرے گرگئے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اگر یہ پانی ناپاک ہے تو کیا اُسے کسی بھی کام میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
............................................................................
جواب:     ٹب کا پانی ماءِقلیل ہے ، اس میں اگر خون کا ایک قطرہ بھی گرجائے یا اس جیسی کوئی اور ناپاک چیز گرجائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ پانی ناپاک ہے ، اب رہا کیا اُسے کسی کام میں استعمال کیا جاسکتاہے یا نہیں ؟   فقہاء کرام نے اس سلسلہ میں تفصیل بیان کی ہے : اگر ناپاکی گرنے کی وجہ سے اس کے اوصاف رنگ ‘بو اور مزہ بدل جائے تو اُسے کسی طور پر استعمال نہ کیا جائے اور اگر نجاست گرنے کے سبب رنگ ‘بو‘ مزہ تبدیل نہ ہو تو یہ پانی ناپاک ضرور ہے ‘ اُس سے وضو وغسل کرنا یاکسی ناپاک چیز کو پاک کرنا شرعاً جائز نہیں تاہم اس پانی سے جانوروں کو سیراب کرنے اور مٹی ترکرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتاہے، لیکن اس سے مسجد کا گلاوا نہیں کیا جاسکتا۔
فتاوی عالمگیری ، کتاب الطھارۃ ، الباب الثالث فی المیاہ ، الفصل الثانی فیما لایجوز بہ التوضؤ میں ہے : فی جامع الجوامع إذا تنجس الماء القلیل بوقوع النجاسۃ فیہ إن تغیرت أوصافہ لا ینتفع بہ من کل وجہ کالبول وإلا جاز سقی الدواب وبل الطین ولا یطین بہ المسجد .کذا فی التتارخانیۃ .
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com