***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کی سنتیں اور مستحبات

Share |
سرخی : f 1111    تشہد میں انگلی اٹھانا سنت ہے؟
مقام : ,
نام : وہاب محمد خان
سوال:     کیا تشہد میں انگلی اٹھانا بٹھانا‘ صحیح ہے؟ کہا جاتا ہے کہ یہ سنت ہے؟
............................................................................
جواب:     فقہ حنفی کے مطابق تشہد میں مسنون ہے کہ ’’لا الہ ‘‘کہتے وقت داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اٹھائے اور ’’الا اللہ‘‘ کہتے ہوئے رکھ دے‘ انگلی کو حرکت نہ دے ،جیساکہ سنن ابوداود ،مصنف عبدالرزاق ، سنن کبری للبیہقی،مستخرج ابوعوانۃ اوراس حدیث پاک کو حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے زجاجۃ المصابیح جلد اول  میں ذکر فرمایا ہے :

عن عبداللہ بن الزبیر انہ ذکر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یشیر باصبعہ اذا دعا ولایحرکہا۔
ترجمہ:سیدناعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں التحیات پڑھتے ہوئے کلمہ شہادت پر پہنچتے تو شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا کرتے مگر اس کو ہلایا نہیں کرتے تھے ۔

(سنن ابوداود ،کتاب الصلوۃ ،باب الاشارۃ فی التشھد،حدیث نمبر:991۔ سنن نسائی ،کتاب الافتتاح ،باب بسط الیسری علی الرکبۃ ،حدیث نمبر:1270۔مصنف عبدالرزاق ،کتاب الصلوۃ ،باب رفع الیدین فی الدعاء ،حدیث نمبر:3242۔سنن کبری للبیھقی ،باب من روی انہ اشارابھا ولم یحرکھا ،حدیث نمبر:2897۔مستخرج ابی عوانہ ،بیان الاشارۃ بالسبابۃ الی القبلۃ ورمی البصرالیھا وتحریکھا بالاشارۃ ،حدیث نمبر:1596)
اور  ردالمحتار ،کتاب الصلوة ،باب صفة الصلوة میں ہے :

  وفي الشرنبلالية عن البرهان :الصحيح أنه يشير بمسبحته وحدها ، يرفعها عند النفي ويضعها عند الإثبات .

واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com