***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 112    ای میل ،فیاکس کے ذریعہ موصول سلام کا جواب کس طرح دیں
مقام : قدیم ملک پیٹindia,
نام : محمدمحسن علی بیگ
سوال:    

قدیم زمانہ میں بذریعہ ڈاک خط و کتابت کا تبادلہ عمل میں آتا تھا، دور حاضر میں ای میل ، فیاکس کے ذریعہ پیام ارسال کیا جاسکتا ہے۔ جو اسی لمحہ پہنچ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ خط ، ای میل ، فیاکس کے شروع میں جو سلام لکھا ہوتا ہے کیا اس کا جواب صرف زبان سے دینا کافی ہے؟یا جس طرح سلام موصول ہوا اسی طرح بذریعہ فیاکس یا ای میل اس کا جواب ارسال کرنا ضروری ہے؟


............................................................................
جواب:    

سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے خواہ سلام بالمشافہ کیا جائے یا کسی کے ذریعہ کہلوایا جائے یا خط، ای میل یا فیاکس کے ذریعہ ارسال کیا جائے ،تمام صورتوں میں سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ البتہ اختیار ہے کہ صرف زبانی جواب پر اکتفاء کرے یا حسب سہولت بذریعہ خط ،ای میل یا فیاکس اس سلام کا جواب ارسال کرے۔ جس طرح وہ سلام موصول ہوا اسی طرح جواب ارسال کرنا ضروری نہیں ہے۔ ردالمحتار ‘ ج ۵‘ص۴۹۲ میں ہے ( قوله ويجب رد جواب کتاب التحية) لان الکتاب من الغائب ،بمنزلة الخطاب من الحاضر مجبتی والناس عنه غافلون اذا کتب لک رجل بالسلام فی کتاب وصل اليک وجب عليک الرد باللفظ او بالمراسلة ۔ترجمہ:خط میں تحریر کئے ہوئے سلام کا جواب دینا واجب ہے کیونکہ غائب شخص کی تحریر حاضر و موجودکی گفتگو کے درجہ میں ہے، عموماً لوگ اس کا خیال نہیں رکھتے جب کوئی شخص آپ کو بذریعہ خط سلام تحریر کرے اور خط آپ کو موصول ہوتو اس کا جواب دینا ضروی ہے، خواہ زبان سے ہویا بذریعہ خط۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com