***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 1121    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت لفظ ’’اباجان ‘‘کہنا
مقام : انڈیا,
نام : بديع الدين
سوال:    

ایک مقرر صاحب نے دوران تقریر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا کہ میرے اباجان نے ارشاد فرمایا ، حالانکہ وہ سید نہیں ہیں, ان کا اس طرح کے الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے لئے کہنا کیسا ہے ؟


............................................................................
جواب:    

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اللہ تعالی نے انبیاء کرام کے سردار بنایا اور خاتم النبیین کے منصب رفیع پر فائز فرمایا اور آپ کی نسبت ابوت کی نفی فرمادی ،ارشاد فرمایا کہ آپ امت کے مردا فراد میں کسی کے والدنہیں ہیں ، ارشادخداوندی ہے: ماکان محمد ابااحد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبيين ۔ترجمہ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے والد نہیں وہ تواللہ کے رسول اور آخر ی نبی ہیں۔ (سورۃ الاحزاب ( بارگاہ خداوندی سے والد ہونے کی نفی کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ابوت کی نسبت کرنا نص قطعی کے خلاف ہے،اولاد کو والد سے جتنی محبت ہوتی ہے اس سے کئی درجے زیادہ محبت ایک ایمان والے کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتی ہے۔ ہاں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر شفقت فرماتے ہیں آپ نے ان کی تربیت فرمائی اور انسانی زندگی کے کسی گوشہ کو نہیں چھوڑا ،تمام شعبه ہائے زندگی کے آداب بتلائے ،اس پس منظر میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ،سنن ابوداودشریف ج1ص3میں حدیث پاک ہے: عن ابی هريرةقال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم انما انالکم بمنزلةالوالد لولده اعلمکم ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یقینا میں تمہارے لئے ایسا ہوں جیسے والد( اپنے لڑکے کے لئے )میں تمہیں تعلیم دیتاہوں ۔ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے ملاعلی قاری رحمہ اللہ الباری مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح ج۱ص 289میں تحریر فرماتے ہیں: ای ماانا لکم الا مثل الوالد فی الشفقة لولده اعلمکم ای امور دينکم استئنا ف بيان قال الخطابيه ذا الکلام بسط للمخاطبين وتانيس لهم لئلا يحتشموا ولايستحيوا عن مسالته فيما يعرض لهم من امردينهم کا لولد بالنسبة الی الوالد فيما يعن له. ترجمہ: میں شفقت ومہربانی میں تمہارے لئے والد کی مانند ہوں تمہیں تمہارے دین کے امور سکھاتاہوں علامہ خطابی کہتے ہیں ، اس حدیث شریف میں مخاطب کے لئے وضاحت اورانست کا اظہار ہے تاکہ وہ ہیبت میں نہ پڑجائیں اور ان کے دین کے معاملہ میں جوچیز یں انہیں درپیش ہوں اس متعلق آپ سے دریافت کرنے میں حیاء نہ کریں جیسے بچہ اس کیلئے پیش آنے والے مسائل میں والدکی نسبت ہوتا ہے ۔ امت میں کسی فرد کے لئے روانہیں کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت والدیا اباجان کے الفاظ کہے جو صاحب نے یہ بات کہی ہے انہیں توبہ کرنا چاہئے کیونکہ ان کا یہ کہنا قرآن کریم کی مذکورہ آیت مبارکہ کے خلاف ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com