***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > خرید و فروخت کا بیان

Share |
سرخی : f 1135    دھوکہ کے بغیرتجارت کیسے!
مقام : پاکستان,
نام : شیخ مرتضیٰ ملک
سوال:    

مارکٹ میں تجارت و کاروبار کرنے والوں کاعموماً یہ نظریہ ہوتا ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ کے بغیر مارکٹ میں کاروبار کرناممکن نہیں ۔ اگر کوئی جھوٹ ‘ دھوکہ دہی اور خیانت کے بغیر کاروبار کرتا بھی ہے تو وہ کامیاب تاجر نہیں ہوسکتا ۔ ان حالات میں ایک مسلمان تاجر کو کیا کرنا چاہئے ؟


............................................................................
جواب:    

اسلام نے معاشی و اقتصادی نظام کے لئے ایک قاعدہ بتلایا کہ ’’ضرر ‘‘نہ اپنی ذات کے لئے ہو اور نہ دوسرے کے لئے، اسی قاعدہ کے تحت معاملات میں جھوٹ ‘ دھوکہ دہی ‘ خیانت اور کسی بھی طرح کا ضرر و نقصان پہنچانا ممنوع و ناجائز ہے ۔ انسانی اقدار میں تنزل اور اخلاقی بگاڑ کی وجہ سے دیانتداری اور راست گوئی سے کاروبار کرنا یقیناً بلندہمتی کا کام ہے اور دارین کی سعادتوں کا ذریعہ ہے ۔ فاسد ماحول میں رہ کر دشواریوں سے دوچار ہوتے ہوئے بھی صدق و امانت سے کاروبار کرنے والے کو بلند درجہ اور اعلی مرتبہ سے نوازا جاتا ہے۔چنانچہ ترمذی شریف ج 1ص 229میں ہے ۔ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ ». ترجمہ : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سچا ‘ امانت دار تاجر ‘انبیاء ‘صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہے ۔ ﴿ سنن ترمذی شریف ج 1، باب ماجاء فی التجار ،ص 229، حدیث نمبر؛1252﴾ اگر تاجر مکرو فریب ‘ دھوکہ دہی سے کاروبار کرتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوگا اور سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔ ترمذی شریف ۔ج 1ص 230میں ہے ۔ عَنْ أَبِى ذَرٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « ثَلاَثَةٌ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ». قُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا فَقَالَ « الْمَنَّانُ وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ». ترجمہ : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا : تین اشخاص کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت نہیں فرمائے گا اور نہ ان کوپاک کرے گا او ران کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ میں نے عرض کیا۔ وہ کون ہیں ؟ یا رسول اللہ ! وہ تو نامراد ہوگئے اور نقصان اٹھائے ۔آپ نے ارشاد فرمایا : احسان جتانے والا (بطورتکبر ) ، تہبند لٹکانے والا اور جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنے سامان کو رواج دینے والا ۔﴿ ترمذی شریف ج 1،باب ماجاء فیمن حلف علی سلعة کاذبا،ص 230،حدیث نمبر؛ 1255 ﴾ ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ حالات کے بگاڑ ‘ زمانہ کے نشیب و فرا ز کی وجہ سے احکام شریعت اور فکر آخرت کو نہیں چھوڑتا ۔ لہذا مسلم تاجرین اسلامی قوانین پر عمل پیرا رہیں ۔ ضرر و ضرار سے اجتناب کریں اور خیانت و دھوکہ دہی سے پرہیز کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرورتجارت میں کامیاب رہیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب – سید ضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com