***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > غصب کا بیان

Share |
سرخی : f 1137    مسروقہ اور غصب کردہ چیزوں کی خرید وفروخت
مقام : ریاض,
نام : سیداحمد
سوال:    

اگر بازار میں کوئی ایسی چیزفروخت کی جارہی ہوجس کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ وہ چیزچوری کی ہے توشریعت کی روسے اس کو خرید کرنا درست ہے کہ نہیں، اسکے باوجود اگر وہ چیزخرید کرلی جائے تو اس کی نسبت شریعت میں کیا حکم ہے؟


............................................................................
جواب:    

فروخت کی جانی والی کسی معین چیزکے بارے میں اگر ظن غالب یہ ہوکہ یہ چیزچوری یا غصب کے ذریعہ حاصل کی ہوئی ہے تو یہ جانتے ہوئے اس چیزکو خرید نا ازروئے شرع شریف صحیح نہیں ،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس پر سخت وعید بیان فرمائی ہے چنانچہ شعب الایمان للبیھقی میں حدیث شریف ہے: عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:من اشتری سرقۃ وہو یعلم انہا سرقۃ فقد اشترک فی عار ہا واثمہا۔ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جوشخص کسی چوری کے سامان کو یہ جانتے ہوئے کہ یہ چوری کا ہے خرید لے تو وہ شخص اسکے وبال اور گناہ میں حصہ دار ہوگیا۔ (بیہقی شعب الایمان ،الثامن والثلاثون من شعب الایمان،حدیث نمبر5258 ) البتہ مارکٹ میں فروخت کی جانے والی چیزوںمیں جائزطریقہ سے حاصل کردہ چیزوں کے ساتھ ناجائزطریقہ سے حاصل کردہ چیزیں ہوں اور غالب واکثر اشیاء جائزطریقہ سے حاصل کردہ ہوں‘ نیز خرید نے والے کو معین شیٔ کی نسبت اس با ت کا علم نہ ہوکہ یہ مال مسروق یاغصب کردہ ہے تو شریعت مطہرہ نے غلبہ کا اعتبار کرتے ہوئے دفع حرج کی خاطر خریدنے کی گنجائش رکھی ہے ۔ مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر، ج4کتاب الخنثی ،مسائل شتی382 میں ہے: الایری ان اسواق المسلمین لاتخلو عن المحرم والمسروق والغصوب ومع ذلک یحل التناول اعتمادا علی الغالب وہذالان القلیل لایمکن الا حترازعنہ ولایستطاع الامتناع فسقط اعتبارہ دفعاللحرج۔ اگر چوری یا غصب کی چیزجانتے ہوئے بھی خریدلی جائے تو اسکے مالک تک پہنچانا لازم ہے، اگر مالک کا پتہ نہ چلے تو اس کا صدقہ کردینا ضروری ہے ،اس کو اپنے استعمال میں لانا درست نہیں۔ جیساکہ رد المحتار ج5،مال خبیث کی بحث کے ضمن میں ص273پر ہے : ویردونہا علی اربابہاان عرفوہم والا تصدقوابہالان سبیل الکسب الخبیث التصدق اذاتعذر الرد علی صاحبہ اھ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com