***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > شرکت کا بیان

Share |
سرخی : f 1138    سرمایہ کاری (Investment) میں نفع ونقصان کا حکم
مقام : چنائی india,
نام : فاضل احمد,کامرس لکچرار
سوال:     میرا سوال شراکت داری سے متعلق ہے۔ میں جاننا چاہتاہوں کہ اسلام حصہ داری میں نفع ونقصان کا تناسب کیابتاتا ہے؟ برائے مہربانی مجھ کو بتائیے کہ حسبِ ذیل حالات میں حصہ داری میں نفع ونقصان کا تناسب کیا ہوگا؟ (1) دونوں کا سرمایہ تجارت میں برابر ہے اور دونوں کا کام بھی برابر ہے ۔ (2) دونوں کاسرمایہ تجارت میں برابر نہیں ، بلکہ 1/2 کی نسبت سے ہے یعنی پہلے کا حصہ ’’ایک‘‘ اور دوسرے کے ’’دو‘‘۔ اور دونوں کا کام برابر ہے۔ (3) دونوں کاسرمایہ 1/3 کے اعتبار سے ہو، پہلے کا حصہ ’’ایک‘‘ اور دوسرے کے ’’تین‘‘ حصے ہیں اور دونوں کا کام برابر ہے تو اِن دونوں کے درمیان حصہ داری میں نفع ونقصان کا تناسب کیا ہوگا؟
............................................................................
جواب:     اگر کوئی دو افراد اس طور پر معاملہ کریں کہ دونوں کا سرمایہ برابرہو اور دونوں کی محنت بھی برابر ہو یا دو افراد کا سرمایہ کم زیادہ ہو اور محنت برابر ہو یا محنت بھی کم زیادہ ہو تو ایسے معاملات کو اصطلاح فقہ میں ’’شرکت عنان‘‘ کہاجاتاہے۔
سوال میں جو تین صورتیں ذکر کی گئی ہیں ان میں نفع کی تقسیم سے متعلق یہ گنجائش ہے کہ دونوں سرمایہ کار (Investors) باہمی رضامندی سے جو بھی طے کریں‘ نفع اُس کے مطابق تقسیم ہوگا، وہ چاہیں 50%‘ 50% مقرر کریں یا چاہیں 40%‘ 60% یا مزید فرق کے ساتھ کم وبیش طے کرلیں، بہر حال نفع کا فیصد مقرر کرنا ان کی صوابدید پر ہے۔  
اس کے برخلاف نقصان کی صورت میں دونوں سرمایہ کار کمی بیشی کے ساتھ نقصان نہیں اٹھائیں گے بلکہ ہر شخص اپنے سرمایہ کے تناسب کے اعتبار سے نقصان برداشت کرے گا۔
سوال میں جو صورتیں ذکر کی گئیں؛ (1) دونوں کا سرمایہ تجارت میں برابر ہو اور دونوں کی محنت بھی مساوی ہو، (2) ایک شخص کا سرمایہ ایک حصہ اوردوسرے کا سرمایہ دوحصے ہو، اور دونوں کی محنت مساوی ہو، (3) ایک شخص کا سرمایہ ایک حصہ اور دوسرے کا تین حصے ہو، اور دونوں کی محنت مساوی ہو؛ مذکورہ تینوں صورتوں میں نقصان کے وقت دونوں سرمایہ کار (Investors) اپنے سرمایہ کے تناسب کے لحاظ سے نقصان برداشت کریں گے۔ (1) دونوں کا سرمایہ 50% 50% ہو تو خسارہ 50% 50% برداشت کریں۔ (2) اس صورت میں چونکہ ایک کا سرمایہ ایک حصہ اوردوسرے کا سرمایہ دوحصے ہے لہذا نقصان بھی 1/2 کے لحاظ سے برداشت کریں گے۔ (3) ایک شخص کا سرمایہ ایک حصہ اور دوسرے کا تین حصے ہو، اس صورت میں سرمایہ 1/3 کے اعتبار سے ہے اس لئے نقصان بھی ایک شخص کو ایک حصہ اور دوسرے کو تین حصے برداشت کرناہوگا۔
درمختار ج 5ص373میں ہے: (و)لذا(تصح)۔ ۔ ۔ مع التفاضل فی المال دون الربح وعکسہ وببعض المال دون بعض ۔ ۔ ۔ والربح علی ماشرطا۔
نیز ردالمحتار ج5ص373میں ہے : (قولہ مع التفاضل فی المال دون الربح)ای بان یکون لاحدھما الف وللاخرالفان مثلا واشترطا التساوی فی الربح وقولہ وعکسہ ای بان یتساوی المالان ویتفاضلا فی الربح۔
اور رد المحتار ج 5ص 374میں ہے : اذا تفاضلا فی الربح فان شرطاالعمل علیھما سویۃ جاز ۔ نیز اسی صفحہ پر ہے : والوضعیۃ بینھما علی قدر مالھما ابدا۔  
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com