***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 1140    خالہ اور ماموں زاد بھائیوں سے فون پر بات چیت؟
مقام : انڈیا,
نام : آفرین
سوال:    

خالہ زاد‘ ماموں زاد بھائیوں سے کس حد تک بات کرنا صحیح ہے؟ کیا اُن سے مذاق کیا جاسکتا ہے؟ یا فون پر بات کی جاسکتی ہے؟


............................................................................
جواب:    

خالہ زاد بھائی اور ماموں زاد بھائی آپ کے لئے حرام رشتہ دار نہیں‘ غیر محرم رشتہ دار کی نسبت میں حکم شریعت یہ ہے کہ خواتین کو اُن سے پردہ کرنا چاہئے‘ اُن سے مزاح و دل لگی اور غیر ضروری گفتگو ممنوع ہے خواہ فون پر ہو یا روبرو‘ اس سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔ البتہ سخت ضرورت کے وقت پردہ کا لحاظ کرتے ہوئے گفتگو کرنے کی گنجائش ہے‘فون کی وجہ سے جہاں سہولت حاصل ہورہی ہے وہیں فتنہ کی راہیں نکل رہی ہیں ایسی صورت میں جہاں تک ممکن ہو فون پر بات کرنے سے احتیاط ہی کرنا چاہئے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com