***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > غسل ،تجہیز وتکفین اور تدف

Share |
سرخی : f 1141    شہر کے باہر انتقال کی صورت میں تدفین کہاں ہو؟
مقام : ,
نام : محمد جمیل
سوال:    

شہر کے باہر یا بیرون ملک رہنے والے حضرات یا کسی وجہ سے وطن کے باہر جانے والے حضرات کا انتقال ہوجائے تو ان کی تدفین کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ کیا میت کو اسی شہر میں دفن کرنا چاہئے جہاں انتقال ہوچکا یا وطن لاکر تدفین کرنا بہترہے؟


............................................................................
جواب:    

کسی شخص کا انتقال اس کے وطن کے باہر کسی دوسرے شہر میں یا دوسرے ملک میں ہوتو ایسی صورت میں اس کی تدفین اسی علاقہ میں کرنا‘ مستحب ہے، تاہم میت کو مقامِ انتقال سے وطن لاکر تدفین کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ فتاوی عالمگیری، کتاب الصلوٰۃ ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل السادس فی القبروالدفن والنقل میں ہے : لو مات فی غیر بلدہ یستحب ترکہ فإن نقل إلی مصر آخر لا بأس بہ ولا ینبغی إخراج المیت من القبر بعد ما دفن إلا إذا کانت الأرض مغصوبۃ أو أخذت بشفعۃ ، کذا فی فتاوی قاضی خان . واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com