***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > اجرت(کرایہ) کا بیان

Share |
سرخی : f 1142    اجارہ کیلئے مدت مقررکرنا ضروری ہے
مقام : کرنول , india,
نام : محمد حمیداللہ
سوال:     بعض لوگ ملگی کرایہ پردیتے ہیں‘ کرایہ دار اس میں دوکان کھولتاہے اوراپنی محنت ومشقت اوربڑی کاوشوں سے تجارت کرتے ہیں‘ گاہکوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے ہیں۔ جب مارکٹ میں وہ دوکان مشہور ہوتی ہے اورلوگ اس طرف راغب ہوجاتے ہیں تو ملگی کے مالک کسی بھی طرح ملگی خالی کرواتے ہیں اور اسی ملگی میں وہی جماجایاکاروبار خود کرنے لگتے ہیں کیا مالکین کایہ عمل درست ہے۔ کیا  یہ کرایہ داروں کے ساتھ زیادتی نہیں؟
............................................................................
جواب:     کسی بھی چیز کو کرایہ پر دینے کواجارہ کہتے ہیں ، یہ انسان کی بنیادی ضرورتوں سے ہے۔ شریعت اسلامیہ میں اس معاملہ کے شرائط مقرر کئے گئے ہیں۔ من جملہ ان کے ایک شرط یہ ہے کہ اجارہ کی مدت مقرر کی جائے ۔
فتاویٰ عالمگیری ج 4 ص 114 میں ہے:  ومنھابیان المدۃ فی الدوروالمنازل والحوانیت۔
مالک کو اندرون مدت خالی کرانے کا اختیار نہیں لیکن مدت ختم ہونے کے بعداختیار ہے کہ جب چاہے کرایہ دار سے ملگی خالی کرالے۔ البتہ مالک کو ملگی کی ضرورت نہ ہواور کرایہ دار حاجت مند ہو تو اسلامی اخوت وبھائی چارگی کے تحت حاجت مند کی مدد کرنی چاہئے۔ اس سلسلہ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان مبارک  ہے : عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِى حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِى حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ».
ترجمہ: حضرت سالم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہے۔ وہ اس پرظلم نہ کرے اور نہ اس کو بے مدد چھوڑے اور جو مسلمان اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتاہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کردیتاہے اور جو کسی مسلمان سے ایک مصیبت کودورکرتاہے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی آفتوں میں سے بڑی آفت کو دور کردیتا ہے اور جو کسی مسلمان کے عیب کو چھپاتاہے اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی سترپوشی کرتاہے۔
﴿صحیح مسلم شریف ج2 ص 320 ،حدیث نمبر: 6743 ﴾
اگرملگی کے مالک کو واقعۃً ملگی کی ضرورت نہ ہو اور کرایہ دار ضرورت مند بھی ہوتو اسلامی بھائی چارگی کاتقاضہ یہ ہے کہ اپنے ضرورت مند بھائی کی مدد کرے اور ضرورت کے وقت اس کاتعاون کرے۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com