***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 1143    خادمین  کے ساتھ ناروا سلوک !
مقام : جگتیال,
نام : ماجد قریشی
سوال:     بعض گھرانوں میں خواتین ومرد حضرات اپنے گھریلو خادمین  کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں اور اس سے طاقت سے زائد خدمت لیتے ہیں۔ ان کا یہ عمل شریعت کی نظر میں کیسا ہے اور شرعاً خادمین  پر حد سے زائد بوجھ ڈالنا کیسا ہے ؟
............................................................................
جواب:     بندہ مومن کو ہر حال میں خوف خدا ملحوظ رکھنا چاہئے بطور خاص کسی سے خدمت لینے کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے خوف کو پیش نظر رکھنا چاہئے کیو ں کہ ہر ایک سے بروز محشر اس کے ماتحت کے متعلق بازپرس ہوگی ۔ صحیح بخاری شریف ج 2ص 783میں ہے ۔  
عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلي الله عليه وسلم قَالَ « كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالأَمِيرُ رَاعٍ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ » .
ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک اپنے ماتحت کا نگہبان او ر ذمہ دار ہے اس سے اپنے  ماتحت کے بارے میں سوال کیاجائے گا ۔ امیرنگہبان ہے ‘مردنگہبان ہے اپنے گھر والوں کا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے تو تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ﴿ صحیح بخاری شریف ج 2، باب الْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِى بَيْتِ زَوْجِهَا ،ص 783،حدیث نمبر : 5200 ﴾
خادم خواہ گھریلو خدمت اس سے متعلق ہو یا بیرونی خدمات ۔ مرد ہو یا عورت ‘ خدمت کا معاوضہ اور اجرت دے کر اس سے خدمت لینے والا دراصل اس کی ذات کا مالک نہیں ہوتا بلکہ اس سے صرف متعلقہ خدمت ہی لے سکتا ہے ۔ خدمت گذار فی الواقع خدمت کے ذریعہ معاوضہ دینے والوں کے لئے راحت و آرام کا سبب ہوتے ہیں اور ان کے امور میں مددگار و معاون بنتے ہیں۔
شریعت اسلامیہ کے قانون کی روشنی میں اُن پر لازم و ضروری ہے کہ اپنے خادمین  کے ساتھ اخلاق حسنہ سے پیش آئیں۔ ان کی عبادت کے اوقات میں خلل اندازی اور ان سے ناروا سلوک کرنے سے احتراز و گریز کریں ،اور ان پر طاقت و وسعت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالیں۔ فتاوی عالمگیری ج 5ص 359میں ہے ۔ لاباس للانسان ان يکون معه من يخدمه ولکن ينبغي ان يکلفه من الخدمة قدر ما يطيق ۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو غلام و باندیوں سے متعلق بھی جن کا انسان مالک ہوتا ہے حسن سلوک کی سخت تاکید فرمائی ہے ۔ صحیح بخاری شریف ج 1ص 9میں حدیث پاک ہے۔ إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ ، وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ ۔
ترجمہ :  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے جو غلام ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں،اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے زیر دست کیا ہے تو جس کسی کا بھائی اس کے زیر دست ہو وہ اس کو ان چیزوں میں سے کھلائے جو وہ کھاتا ہے اور ان کپڑوں میں سے پہنائے جو وہ پہنتا ہے اور تم ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو ۔ اگر ان پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہو تو تم ان کی مدد کرو ۔  ﴿ صحیح بخاری شریف ج 1، باب الْمَعَاصِى مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ص 9میں حدیث نمبر:30﴾
واللہ اعلم بالصواب
سید ضیاء الدین عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com
حیدرآباد ، دکن ،انڈیا
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com