***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1150    اسلام میں  کونسے کھیلوں کی اجازت ہے ؟
مقام : انڈیا,
نام : محمد کریم الدین
سوال:     اسلام میں بچوں کے لئے کونسے کھیلوں کی اجازت ہے ؟کیا کیارم بورڈ کھیل سکتے ہیں ۔
............................................................................
جواب:     ایسے کھیلوں کی شریعت مطہرہ میں اجازت ہے جن کے ذریعہ علمی ودماغی ورزش ہوتی ہے ، بشرطیکہ اوقات ضائع نہ کئے جائیں اورحقوق اللہ یا حقوق العباد میں سے کسی حق کی ادائیگی متاثر نہ ہو اور  نہ نمازوں سے غفلت ہو ۔
لہذا علمی ودماغی ورزش کے لئے علمی تاش ، بیت بازی جیسے کھیل کھیلے جا سکتے ہیں ۔
فنون حرب میں نشانہ بازی ،گھوڑسواری اور تیراندازی جیسے کھیل کھیلنا شرعا جائز ہے ، کیارم بورڈ ،سانپ سیڑھی جیسے کھیلوں سے محض اوقات ضائع ہوتے ہیں ، شوق کی تسکین ہوتی ہے لیکن کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ لہذا ایسے کھیلوں میں مشغول نہیں رہنا چاہئے ، جن کھیلوں کی اجازت بتلائی گئی اُنہیں شرط کے ساتھ کھیلنا (قماربازی)جائز نہیں۔
جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے ؛

وَكُلُّ لَهْوٍ مَا سِوَى الشِّطْرَنْجِ حَرَامٌ بِالْإِجْمَاعِ وَأَمَّا الشِّطْرَنْجُ فَاللَّعِبُ بِهِ حَرَامٌ عِنْدَنَا

(فتاوی عالمگیری ، كتاب الكراهية ،الباب السابع عشر في الغناء واللهو وسائر المعاصي والأمر بالمعروف)
اور ردا لمحتار میں ہے ؛  

  ( وَ ) كُرِهَ ( كُلُّ لَهْوٍ ) لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ " { كُلُّ لَهْوِ الْمُسْلِمِ حَرَامٌ إلَّا ثَلَاثَةً مُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ وَتَأْدِيبَهُ لِفَرَسِهِ وَمُنَاضَلَتَهُ بِقَوْسِهِ } " .

( ردا لمحتار، كتاب الحظر والإباحة ، فَصْلٌ فِي الْبَيْعِ)
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ WWW.ZIAISLAMIC.COM
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com