***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > حیض ونفاس کے مسائل

Share |
سرخی : f 1170    کیا عورت اپنے مخصوص ایام میں قرآن کریم چھو سکتی ہے
مقام : پاکستان,
نام : فرحانہ
سوال:     کیا عورت اپنے مخصوص ایام میں قرآن کریم چھو سکتی ہے ؟ یا بغیر ہاتھ لگائے تلاوت کرسکتی ہے ؟
............................................................................
جواب:     حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
حائضہ اور جنبی قرآن کریم کا کوئی حصہ تلاوت نہ کریں –
عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقْرَأْ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِنْ الْقُرْآنِ -   یہ حدیث شریف ، جامع ترمذی شریف ، ج 1 ، ص 34 ، حدیث نمبر:131  سنن ابن ماجہ ، ص 44 ، سنن دار قطنی ، ج 1 ص 291 ، حدیث نمبر : 412  سنن کبری للبیہقی ، ج 1 ص 461 ، حدیث نمبر : 1479 ، میں موجود ہے –
چنانچہ حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں قرآن کریم کا چھونا اور تلاوت کرنا جائز نہیں ہے البتہ قرآن کریم ایسے غلاف میں ہے کہ اس کو مصحف شریف سے علحدہ کیا جاسکتا ہو تو ایسی صورت میں بے وضو اور جنبی چھوسکتے ہیں ، ہاتھ میں لے کر کہیں رکھ سکتے ہیں ، کسی کو دے سکتے ہیں لیکن مذکورہ بالا حدیث شریف کی روشنی میں قرآن پاک خواہ زیادہ مقدار میں ہو یا کم مقدار میں  جنابت کی حالت میں تلاوت کرنا جائز نہیں ، اگرچہ ہاتھوں میں دستانہ پہن کر ہی کیوں نہ ہو ، البتہ دعاء پر مشتمل کلمات بطور ذکر ودعاء پڑھنے میں کوئی ممانعت نہیں (فتاوی عالمگیری ج 1 ، ص 38 !39)    واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com