***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان > زينت وآرائش

Share |
سرخی : f 1172    بالوں میں سونے، چاندی کے کانٹے لگانا
مقام : مرا د نگر، حیدرآباد,
نام : عائشہ فاطمہ
سوال:     بعض عورتیں سرکے بالوں میں سونے اور چاندی وغیرہ کے کانٹے استعمال کرتی ہیں براہ کرم احکام شریعت کی روشنی میں رہبری فرمائیں کہ کیا یہ عمل درست ہے یا نہیں ؟نیز یہ بھی بتاےئے کہ سونا چاندی کے علاہ کسی اور دھات جیسے تانبا، پیتل وغیرہ کے بنے ہوئے کانٹے ‘پھول استعمال کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
............................................................................
جواب:     شریعت اسلامیہ نے عورتوں کو مخصوص قیود وحدود کے ساتھ زیب و زینت ،آرائش و تجمل اختیار کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے،زینت و تجمل بناؤ سنگھار کرنے سے کلیتا منع نہیں فرمایا جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبات من الرزق۔ (سورہ اعراف: آیت32)
ترجمہ:آپ فرمادیجئے !اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا جو اُس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہے اور پاکیزہ چیزوں کو ۔
عورتوں کیلئے سونا چاندی کےاستعمال کو شریعت نے جائز و مباح رکھا ہے۔ اس لئے انہیں اختیار ہے کہ وہ سونا‘چاندی کے زیورات استعمال کریں یا سر کے بالوں میں سونا‘ چاندی کے کانٹے استعمال کریں اس میں کوئی ممانعت و قباحت نہیں۔
اسی طرح بالوں میں حسن و جمال اور زینت و خوبصورتی کیلئے چاندی سونے کے علاوہ کسی دوسری دھات سے بنائے گئے کانٹے پھول وغیرہ استعمال کرنے کی بھی شرعاً اجازت ہے۔
فتاویٰ عالمگیری ج5ص359میں ہے:ولابأس للنساء بتعلیق النحرز فی شعورھن صفر۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com