***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > متفرق مسائل

Share |
سرخی : f 1182    سویمنگ پول میں تیرنے کا حکم
مقام : دہلی,india,
نام : حمید الدین
سوال:     موسم گرما کے ساتھ جہاں مختلف قلیل مدتی تعلیمی کورسس رکھے جاتے ہیں وہیں گرما کا ایک اور اضافی عمل سویمنگ پول (Swimming Pool)جاکر تیرنا ہوتا ہے‘ نوجوان لڑکے بطور خاص سویمنگ پول جائن کرتے ہیں اور تیرنا سیکھتے ہیں۔ کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟
............................................................................
جواب:     جن اعمال میں جسمانی ورزش ہوتی ہے شرعی حدود میں رہتے ہوئے انہیں بطور ورزش کرنا از روئے شرع جائز ہے‘ پیراکی جسمانی ورزش کیلئے بھی مفید ہے اور کبھی سیلاب کی ناگہانی صورت درپیش ہو تو خود اپنی حفاظت کے لئے اور دوسروں کو پارلگانے کے لئے کارآمد ہوتی ہے۔
چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیراکی سیکھنے کے سلسلہ میں بطور خاص اجازت و تاکید فرمائی ہے ‘امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب جامع الاحادیث والمراسیل العین مع اللام ج 5ص 153میں حدیث پاک ہے ۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم علموا ابناء کم السباحۃ و الرمی و المرأۃ المغزل(ھب ) عن ابن عمر رضی اللہ عنہا۔ ترجمہ : حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بچوں کو پیراکی اور تیر اندازی سکھاؤ اور عورت کو اون کا تنا سکھاؤ۔ نیز امام نسائی کی سنن کبری میں حدیث پاک ہے: عن عطاء بن ابی رباح قال رایت جابر بن عبداللہ  وجابر بن عمیر الانصاریین یرمیان فقال احد ھالصاحبہ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول کل شی ء لیس فیہ ذکر اللہ فھو لھو ولعب الااربع ملاعبۃ الرجل امرأۃ و تادیب الرجل فرسہ و مشیہ بین الغرضین و تعلیم الرجل السباحۃ۔
ترجمہ: حضرت عطاء ابن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اورحضرت جابر بن عمیر انصاری رضی اللہ عنہم کو تیراندازی کرتے ہوئے دیکھا‘ اُن دونوں میں ایک صاحب نے دوسرے سے کہا : میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا :ہر وہ چیز جس میں اللہ کا ذکر نہ ہو بے سود اور لایعنی ہے سوائے چارکاموں کے : آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ مزاح کرنا‘ گھوڑے کو سدھانا‘ دونشانوں کے درمیان دوڑنا اورپیراکی سکھانا۔ ( سنن کبری للنسائی ،ج 5 ابواب الملاعبۃ 302)
مذکورالصدر نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ پیراکی سیکھنے کیلئے سویمنگ پول (Swimming pool) جانا جائز ہے‘ لیکن تیرنے کے لئے زیر ناف سے گھٹنوں تک کوئی حصہ ظاہر کرنا جائز نہیں۔ تیرنے والے نوجوان لڑکوں کیلئے ضروری ہے کہ مکمل سترپوشی کا اہتمام کریں اور بے ستری سے احتراز کریں۔  
الفقہ علی المذاہب الاربعۃ ج 2 کتاب الحظر والا باحۃ ص 50 میں ہے: و انما یجوز کل ذٰلک بشرط قصد الریاضۃ و تقویۃ البدن لابقصد التسلیۃ و قطع الوقت۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com