***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > طلاق رجعی کے مسائل

Share |
سرخی : f 1185    ایک طلاق کے بعد شوہر کو رجوع کرنے کا حق حاصل
مقام : دہلی ،انڈیا,
نام : فیض عالم
سوال:     دو سال پہلے میری شادی ایک لڑکی سے ہوئی‘ اس شادی سے دونوں خاندان مطمئن رہے‘ میاں بیوی مسرت والی زندگی گزارتے رہے‘ چند دن پہلے چند وجوہات کے سبب ہمارے درمیان اختلاف ہوا‘ جھگڑا بڑھتا رہا‘ لڑکی کے خاندان والے مصالحت کی گفتگو کے لئے آئے‘ لیکن اُن کا انداز ‘ تیور‘ گفتگو کے الفاظ کچھ ایسے معلوم ہورہے تھے کہ وہ صلح جوئی کے لئے نہیں جھگڑا کرنے کے لئے آئے ہیں۔ ان کی یہ گفتگو اور انداز دیکھ کر میں بہت افسردہ ہوا‘ بات جوڑنے کی میری کوشش رائیگاں ہوتی دکھائی دے رہی تھی‘ آخری صورت میں‘ میں نے ایک طلاق دے دی ۔ طلاق کے چھ مہینے بعد لڑکی اپنی غلطیوں پر نادم ہوچکی ‘ اب لڑکی میرے پاس آنا چاہتی ہے‘ اس کے والدین ضد کی وجہ سے جانے سے منع کررہے ہیں۔ ایسی صورت میں لڑکی کیا کرے اور لڑکی کے والدین کو کیا کرنا چاہئے؟ کیا ہم دونو ں پھر سے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں؟

............................................................................
جواب:     آپ کو اتنی جلدی طلاق کا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے تھا‘ جب آپ نے ایک طلاق دی ہے تو یہ شرعاً ایک طلاق رجعی قرار پائی‘ (الف)اگر لڑکی حاملہ ہو اور وضع حمل نہ ہوا ہو تو آپ کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے‘ (ب)اگر وضع حمل ہوچکا ہو تو اس کے ساتھ ہی عدت مکمل ہوچکی ہے‘ (ج)اور اگر لڑکی غیر حاملہ ہو اور چھ مہینے گزرچکے ہوں توتین ماہواری عدت ہے جو آپ کے کہنے کے مطابق مکمل ہوچکی ہے لہٰذا آخری دونوں صورتوں میں لڑکی آپ کے نکاح سے نکل چکی ہے‘ اگر باہمی رضامندی سے آپ دونوں نکاح کرنا چاہتے ہوں تو نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ اب جبکہ لڑکی اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر کف افسوس مل رہی ہے‘ آپ بھی طلاق پر نادم ہیں اور دونوں دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں‘ آپسی رضامندی‘ مفاہمت کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے تیار ہیں تو لڑکی کے والدین کو صرف ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ اس نکاح سے نہیں روکنا چاہئے‘ اگر لڑکے کے اخلاق و کردار سے مطمئن ہوں تو بلاکسی سبب رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہئے۔
جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
وهو کأنت طالق ومطلقة وطلقتک وتقع واحدة رجعية وإن نوی الأکثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا کذا فی الکنز . (فتاوی عالمگیری ج1 کتاب الطلاق‘ الباب الثانی فی إیقاع الطلاق وفیہ سبعۃ فصول‘ الفصل الأول فی الطلاق الصریح‘ ص354) نیز فتاوی عالمگیری ، ج 1، باب العدۃ میں ہے:
  وعدۃ الحامل أن تضع حملہا کذا فی الکافی واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com