***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > جنازہ کے مسائل

Share |
سرخی : f 1186    جنازہ اٹھانے اور لے جانے کا طریقہ
مقام : ناندیڑ،انڈیا,
نام : عبدالقیوم قادری
سوال:     جنازہ لے جاتے وقت سامنے میت کا سر ہویا پیر ؟ بعض مقامات پر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ڈولے میں میت کے پیروں کو سامنے کی طرف کیا جارہاہے اور بعض جگہ میت کے سرہا نے کو سامنے رکھ کر کاندھا دیا جاتا ہے دونوں میں درست کیا ہے ۔ رہنمائی کریں اور جنازے کے سامنے چلنا بہتر ہے یا پیچھے؟ اسی طرح جنازہ کو کندھا دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟
............................................................................
جواب:     جنازہ میں میت کا سر آگے کی جانب اور پیر پیچھے کی جانب ہوں‘ اور سر پیچھے کی جانب اور پیر سامنے کی جانب رکھنا غیر درست ہے ۔ فتاوی عالمگیری  ج 1 ص 162 میں ہے
  ’’ و فی حالۃ المشی بالجنازۃ یقدم الرأس کذا فی المضمرات ‘‘
چلنے کی حالت میں میت کے سر کو آگے رکھا جائے اور جنازہ کے ہمراہ چلنے والے کیلئے اس کے پیچھے چلنا مستجب و افضل ہے اور سامنے چلنا بھی جائز ہے مگر یہ کہ وہ جنازے سے دور ہو جائے یا سب آگے بڑھ جائیں اور جنازے کو پیچھے چھوڑ دیں تو یہ عمل مکروہ ہوگا ۔ فتاوی عالمگیری ج 1 ص 162 میں ہے ۔
  ’’ الافضل للمشیع للجنازۃ المشی خلفھا و یجوز امامھا الا ان یتباعد عنھا او یتقدم الکل  فیکرہ ‘‘  
جنازہ کو کندھا دینے والے کیلئے مستحب طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ جنازہ کے اگلے حصہ کے سیدھے جانب کو اپنے کندھے پر دس قدم تک رکھے پھر جنازہ کے پچھلے حصہ کے داہنے جانب کو ویسے ہی دس قدم رکھے پھرجنازہ کے آگے آ کر بائیں جانب کو دس قدم تک اسی طرح بائیں جانب کے اخیر حصہ کو دس قدم اٹھائے اس لئے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی جنازہ کو چالیس قدم اٹھائے وہ چالیس کبیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ فتاوی    در مختار ج 1 ص 657 میں ہے
  (و اذا حمل الجنازۃ وضع ) ندبا (مقدمھا علی یمینہ ) عشر خطوات لحدیث من حمل جنازۃ اربعین خطوۃ کفرت عنہ اربعین کبیرۃ ( ثم ) وضع ( مؤخرھا) علی یمینہ کذلک ثم مقدمھا علی الیسار ثم مؤخرھا ۔  
واللہ اعلم بالصواب–
سیدضیاءالدین عفی عنہ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com