***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > غسل ،تجہیز وتکفین اور تدف

Share |
سرخی : f 1188    گھرمیں میت دفن کرنے کی وصیت
مقام : کاماریڈی،انڈیا,
نام : محسن احمد
سوال:     مفتی صاحب قبلہ !ایک صاحب کا انتقال ہوچکا،انہوں نے وصیت کی کہ ان کی تدفین ان کے گھرمیں ہی کی جائے ،کیا گھرمیں میت کودفن کرنا درست ہے ؟اوراس وصیت کا کیا حکم ہے ؟بیان فرمائیں،علم نوازش ہوگی ۔
............................................................................
جواب:     کسی مسلمان کا انتقال ہوجائے تواسکے حقوق میں یہ بات ہیکہ اس کی تجہیزوتکفین کا انتظام کیا جائے اورمسلمانوں کے قبرستان میںاسے دفن کیا جائے،گھرمیں دفن نہیں کرناچاہئے ، اگرکوئی شخص وصیت کرے کہ اس کے انتقال کے بعداسے گھرمیں ہی دفن کیاجائے تواس کی وصیت ناقابل اجراء اورباطل ہوگی،اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔
تکملۃ البحرالرائق ج 9ص301میں ہے : اوصی بان یدفن فی دارہ فوصیتہ باطلۃ لانہ لیس فی وصیتہ منفعۃ لہ ولالاحدمن المسلمین۔ ۔ ۔ ۔ردالمحتارج 1 ص660میں ہے : ولایدفن صغیرولاکبیرفی البیت الذی مات فیہ فان ذلک خاص بالانبیاء بل ینقل الی مقابرالمسلمین اھ۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com