***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > سجدۂ سہو کے مسائل

Share |
سرخی : f 1190    ضم سورہ سے پہلے رکوع کرلے تو کیا حکم ہے؟
مقام : پاکستان,
نام : سید محمد عزیر جاوید قادری رضوی ضیائی اشرفی‘
سوال:    

السلام علیکم حضور ! ارشاد فرمائے‘ نمازی اگر سورہ فاتحہ کے بعد رکوع میں جارہا ہو اور پورا نہ جھکا ہو اور دوبارہ قیام میں آکر سورہ اخلاص یا کوئی سورہ پڑھے تو کیا حکم ہے؟ چاہے فرض نماز ہو یا واجب‘ سنت یا نفل۔ جزاک اللہ۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! رکوع کے معنی جھکنے کے ہیں‘ رکوع کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ہاتھ اس قدر بڑھائیں کہ گھٹنوں تک پہنچ جائیں‘ اس سے کم جھکے تو اس پر رکوع کا اطلاق نہیں ہوتا‘ اگر کوئی مذکورہ مقدار سے کم جھکا ہو تو گویا وہ قیام میں ہی رہا ‘ سیدھا کھڑا ہوکر ضم سورہ کرے اور معمول کے مطابق نماز ادا کرے‘ سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں‘ خواہ فرض‘ واجب نماز ہو یا سنت و نفل ہو‘ سب کا یہی حکم ہے۔ فتاویٰ عالمگیری ج 1‘ ص 70 میں ہے: و قدر الواجب من الرکوع ما یتناولہ الاسم بعد ان یبلغ حدہ وھو ان یکون بحیث اذا مد یدیہ نال رکبعتیہ کذا فی السراج الوھاج۔ اور اگر اس طرح جھکے کہ ہاتھ دراز کرنے سے گھٹنوں تک پہنچتے ہوں تب بھی واپس قیام میں آئے کوئی سورہ پڑھ کر رکوع کرے اور سجدۂ سہو کرلے۔ ردالمحتار ‘ کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل میں ہے (قولہ لکون بعد قراء ۃ تامۃ) أی فلم ینتقض رکوعہ‘ بخلاف ما لو تذکر الفاتحہ أو السورۃ حیث یعود و ینتقض رکوعہ لأن یعودہ صارت قراء ۃ الکل فرضا والترتیب بین القراء ۃ والرکوع فرض فارتفض رکوعہ‘ فلو لم یرکع بطلت (رد المحتار‘ کتاب الصلوٰۃ‘ باب الوتر والنوافل) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com