***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > نجاست کے مسائل

Share |
سرخی : f 1196    شیرخوار بچے کی قئے کا حکم
مقام : پاکستان,
نام : عالیہ تبسم
سوال:     شیر خوار بچے اگر قئے کرلیں تو کیا بدن اور کپڑے کے اتنے حصہ کو دھولینا ضروری ہے یا شیر خوارگی کے زمانہ کی وجہ سے اس میں کوئی تخفیف ہے ۔کیونکہ اکثر بچے دودھ پینے کے بعد اس کو باہر نکالدیتے ہیں ‘ شرعی حکم سے آگاہ کریں ۔
............................................................................
جواب:     شیر خوار بچہ ہو یا بڑا آدمی اگر منہ بھر کر قئے کرے تو وہ نجس و ناپاک ہے ۔ کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو اس کو دھولینا ضروری ہے کیونکہ منہ بھر قئے کو شریعت نے ناقض وضوء قرار دیا ہے اور جس چیز کے نکلنے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے وہ نجاست غلیظہ ہے البتہ اگر قئے منہ بھر کر نہ ہو تو چونکہ اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا اسی وجہ سے وہ ناپاک نہیں ہے ۔بدن یا کپڑے پر لگ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں تاہم اس کو دھولینے کا جو حکم ہے وہ نظافت کے طور پر ہے ۔ مراقی الفلاح ص 83 میں ہے
’’ و ما ينقض الوضوء بخروجه من بدن الانسان کالدم السائل والمنی والمذی والودی والاستحاضة والقئی ملأ الفم و نجاستها عليظة بالاتفاق لعدم معارض دليل نجاستها عنده
اور طحطاوی علی مراقی الفلاح ص 83 میں ہے

و اما ما لا ينقض کالقئی الذی لم يملأ الفم وما لم يسل من نحو الدم فطاهر علي الصحيح۔
    
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com